Urdu book · اسلام

ہجرت

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو واپس نہیں کریں گے۔ اس کی اجازت نہ دی کہ مسلمان اس سال مکہ جاکر عمرہ کریں۔ سارے صحابہ کے لئے یہ شرطیں انتہائی گراں ہورہی تھیں۔ حتی کہ ایک موقع پر جب عروہ بن مسعود نے کہا اے محمد! یہ جو ادھر ادھر کے لوگ آپ نے اپنے گرد جمع کر رکھے ہیں، یہ سب آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے (انی لاری اشوابامن الناس خليقانات يفضوايد عوث) اس کو سن کر ابو بکر جیسا سنجیدہ آدمی بھی غصہ میں آگیا۔ ان کی زبان سے نکلا: امصص بظرم اللات، انحن نفر عنه وندعه تو لات کی شرم گاہ چوس، کیا ہم آپ کو چھوڑ کر (البدايه والنهايه) بھاگ جائیں گے۔ مگر خدا کا رسول ہر قسم کی اشتعال انگیز باتوں کو برداشت کرتا رہا اور قریش کے ہر مطالبہ کو مان کر ان سے دس سال کے لئے نا جنگ معاہدہ کر لیا۔ اب قریش پابند ہوگئے کہ وہ دس برس تک بالواسطہ یا براہ راست کسی ایسی جنگ میں حصہ نہ لیں جو مسلمانوں کے خلاف ہو۔ یہ معاہدہ جو مسلمانوں پر اتنا سخت تھا کہ اس کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں سے قربانی کرنے کو کہا تو تین بار اعلان کرنے کے باوجود کوئی ایک شخص قربانی کے لئے نہ اٹھا۔ اس کے بعد اٹھے بھی تو غم کا یہ حال تھا کہ قربانی کے بعد سر مونڈنے لگے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے (وَدَجْعَلُ بعضهم يحلق بعضا حتى عاد بعضهم يقتل بعضا غما) مگر دب کر کئے جانے والے اس معاہدہ کے اتنے عظیم الشان فائدے ہوئے جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کے دو طاقت ور حریف تھے، ایک خیبر کے یہودی۔ دوسرے مکہ کے قریش۔ مسلمان ابھی اتنے طاقت ور نہ ہوئے تھے کہ بیک وقت دونوں سے نپٹ سکیں۔ ایک پر حملہ کرنا یا دوسرا کو موقع دینا تھا کہ وہ پیچھے سے آکر مدینہ میں گھس جائے اور مسلمانوں کے مرکز کو برباد کر دے۔ آپ نے یہ کیا کہ قریش مکہ کے سارے مطالبات منظور کر کے ان کو دس سال تک کے ’’ناجنگ معاہدہ‘‘ پر راضی کر لیا۔ اور اس طرح انھیں ”بطن مکہ‘‘ میں روک دیا۔ (فتح - ۴ (۴) اس کے بعد مدینہ واپس آکر پہلی فرصت میں خیبر پر حملہ کر کے یہودی مسئلہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔ پہلا واقعہ ذی قعدہ ۶ھ میں ہوا اور دوسرا محرم ے ھ میں۔ خیبر میں یہودیوں کے آٹھ پتھر کے قلعے تھے جن میں ۲۰ ہزار جنگ جو ایسے ہتھیاروں کے ساتھ جھے ہوئے تھے جن سے اسلامی فوج بالکل خالی تھی۔ ان قلعوں کے استحکام کے لئے وہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا جس کو سنساء میں فرانس کے فوجی انجینئر مارشل دابان (۷۰۱ - ۱۶۳۳) نے اختیار کر کے شہرت پائی۔ اس مضبوط اور مسلح شہر کو کس طرح فتح کیا گیا۔ یہ بذات خود ایک طویل داستان ہے۔ اس موقع پر جو حیرت انگیز جنگی حکمت عملی اختیار کی گئی، اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ قلعوں کا پھاٹک توڑنے کے لئے یہ کیا گیا کہ بھاری درخت کا تنہ لے کر پچاس آدمی دوڑتے تھے اور اس کو تیزی سے قلعہ کے پھاٹک پر مارتے تھے، چند بار ایسا کرنے سے قلعہ کا دروازہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page