ہجرت
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹوٹ جاتا تھا اور اس کے بعد تیروں اور منجنیقوں کے طوفان میں مسلمان قلعہ کے اندر گھس جاتے ۔ اس طرح چار قلعے مسخر ہوئے تھے کہ بقیہ نے مرعوب ہو کر خود سے دروازے کھول دیئے اور اپنے کو اسلامی فوج کے سپرد کر دیا۔ خیبر کی تسخیر کے بعد اب قریش مکہ کا مسئلہ تھا۔ آپ کی فراست ربانی نے بتایا کہ اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ دشمن کو موقع دیا جائے کہ وہ کوئی غلطی کرے تاکہ آپ کے لئے مداخلت جائز ہو جائے۔ آپ جانتے تھے کہ قریش کو جس چیز نے اسلام کے خلاف برانچیختہ کر رکھا ہے، وہ بغض، حسد، اقتدار پرستی اور گھمنڈ کے سوا کچھ نہیں ہے اور جو لوگ اس قسم کی نفسیات کے تحت کسی چیز کی مخالفت کریں وہ اپنے آپ کو غیر منطقی اور غیر اخلاقی کارروائیوں سے باز نہیں رکھ سکتے۔ اندازہ نہایت صحیح نکلا۔ قبیلہ خزاعہ اور قبیلہ بنی بکر کی جنگ (شعبان ۵ھ) میں قریش نے پر پردہ اپنے حلیف قبیلہ (بنو بکر) کی حمایت میں آپ کے حلیف قبیلہ (بنو خزاعہ) کے خلاف چڑھائی کرکے یہی غلطی کی۔ یہ معاہدہ صلح کی صریح خلاف ورزی تھی۔ یہ صلح حدیبیہ کے دو برس بعد کا واقعہ ہے۔ اس صلح کے نتیجہ میں اس مدت میں اسلام اتنا بڑھ چکا تھا کہ صلح حدیبیہ کے وقت اگر آپ کے ساتھ ڈیڑھ ہزار مرد تھے تو اب ان کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ آپ نے خاموشی کے ساتھ مکہ کی طرف مارچ کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنی حکمت اور تدبیر کے ساتھ ہوا کہ تقریباً خون بہائے بغیر مکہ فتح ہو گیا : وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا وعدہ کیا ہے تم کو اللہ نے بہت غنیمتوں کا تم ان کو فَجَعَلَ لَكُمْ هَذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ لو گے۔ پس شتاب دے دی تم کو یہ ، اور روک فتح ۔ ۲۰ دیے لوگوں کے ہاتھ تم سے۔ معاہدہ کے وقت صورت حال یہ تھی کہ تقریباً ۲۰ برس کی مسلسل تبلیغی جدو جہد کے ذریعہ اسلام کی آواز سارے عرب میں پھیل چکی تھی۔ ہر قبیلہ میں بے شمار ایسے لوگ وجود میں آچکے تھے جن کے دلوں میں اسلام کی صداقت نے اپنی جگہ بنالی تھی ۔ مگر اس وقت کے عرب میں قریش کو قیادت کا مقام حاصل تھا۔ لوگ قریش کے ڈر سے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اسلام کا اعلان کرنا قریش سے جنگ چھیڑنے کے ہم معنی ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ ہو گیا ہے تو یہ خطرہ دور ہو گیا اور لوگ اس طرح اسلام قبول کرنے لگے جیسے ٹریفک پوسٹ پر بند سڑک کھلنے کے بعد اچانک ساریاراں ٹوٹ پڑتی ہیں قال الفقیه ابن شهاب الزهري وغيره ان الله ابن شہاب زہری اور دوسروں نے کہا ہے کہ اللہ نے فتح على المسلمين بصالح الحديبية اكثر مما فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ مسلمانوں کو جو فتوحات دیں وہ کسی الله عليهم به من ای غز و آخر بدلیل ان النبی بھی دوسرے غزوہ سے زیادہ تھیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلى الله عليه وسلم رجع الى مكة عام الفتح بعشرة فتح کے سال مکہ میں دس ہزار افراد کے ساتھ داخل ہوئے آلاف ولم تكن عدته من قبل لتزيد على ثلاثة جب کہ اس سے پہلے ان کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader