Urdu book · اسلام

ہجرت

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

آلاف بحال ، وعلله بانه لما هادت قريشا لم تھی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قریش نے جنگ جوئی بند يجد العرب حربا ان يدخلوا الاسلام فان کر دی تو عربوں کو اسلام میں داخل ہونے کے لئے کوئی ذلك لا يغيظ قريشا ولا يعتبر متحد يا لها رکاوٹ نہ رہی کیونکہ اب قریش کے غصہ اور مقابلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وبنو اسرائیل: ۱۰۲- ۱۰۱ کا خطرہ نہیں تھا۔ بخاری نے حضرت برار سے روایت کیا ہے ، انھوں نے بعد کے لوگوں سے کہا، تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو، مگر ہم لوگ صلح حدیبیہ کو فتح کہا کرتے تھے۔ (ماکنا نعد الفتح الا يوم الحديبية) اس معاہدہ کے ذریعے مدینہ کا اقتصادی محاصرہ ختم ہوگیا اور مدینہ کے تجارتی قافلے آزادی کے ساتھ مکہ سے گزرنے لگے ۔ ابوبصیر، ابو جندل وغیرہ جن کو از روئے معاہدہ قریش کی طرف واپس آنا ضروری تھا، وہ بھاگ کر ذو المروہ پہنچے۔ وہاں اس قسم کے اور مسلمان جمع ہونے لگے حتیٰ کہ وہ ایک نیا مرکز بن گیا اور اس نے قریش کے تجارتی قافلوں کو اتنا پریشان کیا کہ انھوں نے ازخود معاہدہ کی یہ دفعہ ختم کردی۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری عجلت اور ظاہربستی ہے۔ اگر آدمی ظاہر سے بلند ہو جائے تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایسے امکانات رکھے ہیں جو آدمی کو کامیابی تک پہنچانے کی یقینی ضمانت ہیں : اخرج ابن عساكر عن الواقدی قال: كان ابوبکر حضرت ابوبکر فرماتے تھے اسلام میں فتح حدیبیہ سے الصديق رضى الله عنه يقول : ماكان فتح اعظم زیادہ بڑی فتح کوئی نہیں ہوئی، مگر اس دن لوگوں في الاسلام من فتح الحديبية ولكن الناس يؤمنون کی نظریں وہاں تک نہ پہنچ سکیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم قصر رايهم عما كان بين محمد وربه اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ بندے جلدی چاہتے والعباد يعجلون والله لا يعجل كعجلة العباد ہیں۔ مگر اللہ بندوں کی طرح جلدی نہیں کرتا یہاں تک حتى يبلغ الامور ما اراد کہ معاملات وہاں پہنچ جائیں جہاں وہ انکو پہنچانا چاہتا ہے۔ حقیقت پسندی دنیا میں سب سے زیادہ کمیاب ہے ، اگر چہ حقیقت پسندی ہی وہ چیز ہے جو کسی کامیابی تک پہنچنے کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ خیبر سے فارغ ہونے کے بعد ہی آپ نے ایک اور مہم کی تیاری شروع کر دی تھی۔ مگر کسی ایک شخص سے بھی آپ نے نہیں بتایا کہ یہ تیاری کس کے خلاف ہے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر تک کو معلوم نہ تھا کہ آپ کدھر کا قصد کرنے والے ہیں۔ رمضان سن ۸ کے آغاز میں جب اسلامی لشکر نے آپ کے حکم کے مطابق مکہ کا رخ کیا ، اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ کی منزل کیا ہے۔ تاہم پورا سفر اتنی خاموشی سے طے ہوا کہ آپ مرالنظہران تک پہنچ گئے اور مکہ والوں کو خبر نہ ہوئی (ولم تعلم به قريش) آپ نے روانگی سے پہلے دعا فرمائی : اللهم خذ العيون والاخبار عن قريش حتی نبغتها خدایا قریش سے جاسوسوں اور خبروں کو روک لے في بلادها

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page