Urdu book · اسلام

عبادت کے تقاضے

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

جو موجودہ دنیا کی نسبت سے اسے حاصل ہیں۔ ۱۔ ایک پہلو وہ ہے جو خود اپنی ذات سے متعلق ہے۔ ہر بار جب زندگی کی سرگرمیوں میں اس کے سامنے کوئی ایسا معاملہ آتا ہے جس میں اس کے لئے دوسرا راہن اختیار کرنا ممکن ہو، ایک خدا کی راہ، دوسرے نفس اور معبودان باطل کی راہ۔ اس وقت اس کا جذبہ عبودیت اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسری راہوں کو چھوڑ کر اپنے رب کی بتائی ہوئی راہ کو اپنے لئے پسند کرلے۔ جس خدا کے آگے وہ حیاتی طور پر جھکا ہوا ہے، اپنے عملی وجود اور اپنے رویہ کو بھی اسی کے آگے جھکادے۔ یہ عبادت کا وہ مظہر ہے جو خود اپنی ذات کی نسبت سے وجود میں آتا ہے اور اس کا دوسرا نام "اطاعت" ہے۔ اس اطاعت کے مقامات گھر، دفتر، بازار، پارلیمنٹ اور وہ تمام جگہیں ہیں جہاں صاحب ایمان کا سابقہ کسی ایسی صورت حال سے پیش آئے جہاں اس کے لئے خدائی طریقہ اور غیر خدائی طریقہ کے درمیان انتخاب کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہو۔ ۲۔ دوسرا پہلو وہ ہے جو خارجی دنیا یا دوسرے لفظوں میں غیر مسلموں کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ اس زمین پر بسنے والے وہ تمام لوگ جنھوں نے ابھی تک اپنے رب سے رشتہ نہیں جوڑا ۱۱ اور اس بنا پر وہ خطرناک اخروی انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں، ان کی یہ نازک پوزیشن مجبور کرتی ہے کہ بندہ مومن انھیں بھی عبادت کے اس راستہ پر لانے کی کوشش کرے جس کو اس نے خود اپنے لئے اختیار کیا ہے۔ یہ عبادت کا وہ مظہر ہے جو عام انسانوں کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے اور اس کا دوسرا نام شہادت یا تبلیغ ہے۔ اہل ایمان سے خود اپنی ذات کے سلسلے میں جو چیز مطلوب ہے، وہ اطاعت (تعمیل حکم) ہے اور غیر مسلموں کی نسبت سے ان پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے، وہ تبلیغ (پہنچا دینا) ہے۔ اب عبادت کے پہلے مظہر (اطاعت) کو لیجیئے۔ اس کی دو بڑی قسمیں ہیں، انفرادی اور اجتماعی۔ انفرادی اطاعت سے مراد ان چیزوں میں خدا کی فرماں برداری کرنا ہے جن کا تعلق اہل ایمان کی ذاتی زندگی سے ہے۔ اس میں وہ تمام احکام آجاتے ہیں جو اخلاق و معاملات سے متعلق دیئے گئے ہیں۔ مثلاً سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت میں خیانت نہ کرنا، عدل و انصاف سے کام لینا۔ تواضع اختیار کرنا، ناپ تول میں کمی نہ کرنا، جس کا جو حق ہو اس کو ادا کرنا۔ ہر ایک کے ساتھ نصح اور خیر خواہی کا معاملہ کرنا، غرض وہ سب کچھ جو انسان کو ذاتی طور پر پیش آتا ہے اور وہ سب کچھ جس میں انسان اپنے ذاتی فیصلہ سے کوئی رویہ اختیار کرتا ہے، ان میں خدائی ہدایات کو اپنانے کا نام انفرادی اطاعت ہے۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ جب اس کو اپنے کسی معاملہ میں خدا کا حکم معلوم ہو جائے اور وہ اس کی تعمیل کی حیثیت میں ہو تو وہ اس سے انحراف کرے۔ ماكان لمؤمن ولا مومنة اذا قضى الله ورسوله امر ا کسی مومن یا مومنہ کو حق نہیں کہ جب اللہ اور رسول کسی امر کا ان يكون لهم الخيرة من امرهم ومن يعص الله ورسوله فیصلہ کردیں تو اپنے امر میں ان کے لئے اپنا بھی کچھ اختیار ہو۔ اور فقد ضل ضلالا مبينا (احزاب - ٣٦) جو خدا اور رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ صریح گمراہ ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page