Urdu book · اسلام

ہجرت

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مہم کی تیاری کے لئے آپ نے حیرت انگیز انتظامات کئے ۔ آپ نے حکم دیا کہ شہر مدینہ کا تعلق باہر سے منقطع کر دیا جائے ۔ نہ کوئی شخص باہر سے شہر کے اندر داخل ہو اور نہ کوئی شخص شہر سے باہر جانے پائے ۔ حضرت علی کی قیادت میں کچھ لوگ راستوں کی نگرانی کے لئے مقرر کر دیئے گئے ۔ انہیں لوگوں نے حاطب بن ابی بلتعہ کے قاصد کو پکڑ کر اس سے مشہور خط برآمد کیا تھا۔ سارا لشکر سامان اور ہتھیار سے لیس تھا ۔ ( وفي كل القبائل عدد وسلاح، طبرانی عن ابن عباس) مسلمانوں کی ساری تعداد کو ساتھ لیا گیا (لم يتخلف منهم احد) روانگی کا انتظام آپ نے اس طرح کیا کہ دس ہزار فوج کو مختلف دستوں میں بانٹ دیا۔ ہر دستہ کا ایک سردار تھا جو جھنڈا لے کر آگے چلتا اور اس کے پیچھے چند سو کا دستہ قطار در قطار مارچ کرتا۔ اپنے چچا حضرت عباس سے آپ نے کہا کہ ابو سفیان کو فوجوں کے مارچ کا منظر دکھائیے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس : آپ نے حضرت عباس سے فرمایا، ابوسفیان کو پہاڑ اجلسه بمضيق الوادى عند خطم الجبل حتى کے پاس گزرگاہ پر روکے رہئے تاکہ اللہ کا لشکر تمر به جنود الله فیها ها ان کے سامنے سے گزرے اور وہ اس کو دیکھیں۔ (تہذیب سيرة ابن هشام، جلد ۲، صفحه ۶۱) اسلامی لشکر قطار در قطار گزر رہا تھا اور ابو سفیان حیرانی کے ساتھ دیکھ رہے تھے ، یہاں تک کہ ابو سفیان کی زبان سے نکلا من له هؤلاء طاقة لمدار كاليوم جنود اقط ولا جماعة ۔ ایک طرف آپ نے مکہ کے لیڈر (ابو سفیان) کو اس طرح متاثر کیا ، دوسری طرف یہ اعلان کر دیا کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو امان ہے (من دخل دارابی سفیان فهو آمن) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو سفیان نے خود ہی مکہ میں اعلان کر دیا کہ اے لوگو محمد کی اطاعت قبول کر لو۔ آج ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں۔ فتح مکہ کے بعد کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اس مہم کے لئے اتنی زبردست تیاری مکہ میں خوں ریزی کے لئے نہ تھی بلکہ اہل مکہ کو مرعوب کرنے کے لئے تھی تاکہ خون بہائے بغیر مکہ پر اسلام کا قبضہ ہو جائے ۔ یہ لشکر اسلام کے سردار سعد بن عبادہ نے مکہ کے قریب پہنچ کر نعرہ لگایا اليوم يوم الملحمة (آج گھمسان کا دن ہے) آپ نے فرمایا نہیں ، آج رحمت کا دن ہے اور ان کو سرداری سے معزول کر کے جھنڈا ان کے لڑکے قیس کو دے دیا۔ فتح مکہ کے بعد بھی اگر چہ کچھ لڑائیاں ہوئیں اور مجموعی طور پر آپ کے غزوات (چھوٹے بڑے) کی تعداد ۸۰ تک پہنچتی ہے۔ تاہم مکہ کا فتح ہونا ملک کے دار السلطنت کا قبضہ میں آنا تھا۔ چنانچہ معمولی جھڑپوں کے بعد سارے عرب نے آپ کے اقتدار کو تسلیم کر لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page