موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں مشہور حدیث کے مطابق امت مسلمہ میں ہر دور میں ایسے لوگ اٹھیں گے جو ”اس کے لئے اس کے دین کی تجدید کریں گے“، یہ پیشین گوئی امت مسلمہ کی پوری تاریخ میں صحیح ثابت ہوئی ہے اور یہی وہ چیز ہے جس نے دین کا تسلسل اس امت میں باقی رکھا ہے۔ مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ ”تجدیدی کوششوں کے نتائج جو ماضی میں نکلتے رہے ہیں، موجودہ دور میں کیوں برآمد نہ ہو سکے“، ماضی میں جو مجددین اٹھے ان کو اپنی کوششوں میں اس حد تک کامیابی ہوئی کہ ایک ہزار برس سے بھی زیادہ مدت تک اسلام روئے زمین پر چھایا رہا۔ پوری مسلم دنیا میں، جو چین کی سرحدوں سے لے کر افریقہ کے مغربی ساحل تک پھیلی ہوئی تھی، اسلامی فکر کا غلبہ تھا، سوچنے کا ڈھنگ، زندگی کے طریقے، لین دین کے اصول، حق و ناحق کے معیار، غرض ہر معاملہ میں اسلام کا سکہ چلتا تھا۔ زندگی کی تمام سرگرمیوں پر اسلام کی چھاپ پڑی ہوئی تھی۔ محدث اور فقیہہ کی زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ بادشاہ وقت کے فرمان سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بے شمار مصلحین اٹھے اور انھوں نے اتنے بڑے پیمانہ پر تجدیدی کوششیں کیں کہ باعتبار مقدار ان کا کام پچھلے تمام مجددین کے مجموعی کام سے بھی زیادہ ہو گیا۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ اسلام کی مغلوبیت ختم نہ ہوئی۔ زندگی کے نقشوں پر جاہلی تہذیب کا غلبہ دن بدن بڑھتا ہی چلا گیا۔ حتیٰ کہ دوسو برس پہلے، جب کہ دورِ جدید کے تجدیدی کام کا آغاز ہوا تھا، اس وقت اسلام جہاں تھا آج وہ اس سے بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ اٹھارویں صدی میں عالم اسلام پر مغربی قوموں کا استیلا ساری تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے جن مخالف حملوں کا تجربہ ہوا، انھوں نے اسلامی دنیا کے لئے صرف دفاعی مسائل پیدا کئے تھے جو دفاعی تدبیروں کے ذریعے کامیابی کے ساتھ حل کر لئے گئے۔ جب موجودہ حادثہ پیش آیا تو اس وقت بھی ماضی پر قیاس کرتے ہوئے ساری طاقت دفاعی تدابیر پر صرف کر دی گئی۔ حالاں کہ یہ حملہ پچھلے تمام حملوں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کے مقابلہ کے لئے دفاعی اقدام سے پہلے مثبت تیاریوں کی ضرورت تھی۔ مگر بروقت اس فرق کو سمجھا نہ جا سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دفاعی تدبیروں میں جو قوت صرف کی گئی وہ سب کی سب ضائع ہو گئی مزید یہ کہ دفاعی جنگ کے ہنگاموں میں اسلام کی دعوتھی ہم بھی فراموش ہو کر رہ گئی، جس کو اسلام کے اصل مثبت کام کی حیثیت سے ہمیشہ کے لئے اہل اسلام کا اولین فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ نبوت کے چھٹے سال جب عمر فاروق رضہ اسلام لائے تو انھوں نے مسجد حرام میں جا کر اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ قریش کے لوگ ان سے لپٹ گئے۔ دیر تک مقابلہ ہوتا رہا۔ بالآخر حضرت عمر نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader