Urdu book · اسلام

موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

افعلوا ما بد لكم ، فاحلف بالله ان لقد كنا جو تمھارے جی میں آئے کرو۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ثلاث مائة رجل لقد تركنا ها لكم او تركتموها کہ اگر ہم تین سو آدمی ہو جائیں تو پھر یا ہم اس سر زمین کو تمھار ے لنا (البدايه والنهايه جلد ۳ - صفحه ۸۲) لئے چھوڑ دیں گے یا تم اس کو ہمارے لئے چھوڑ دو گے۔ نبوت کے چودھویں سال بدر کے واقعہ نے ثابت کر دیا کہ آپ کا یہ ارشاد کس قدر صحیح تھا۔ حضرت عمر رض نے اپنی خلافت کے زمانہ میں عمروبن العاص رض کو لکھا جو اس وقت مصر کے محاذ پر تھے اور فتح میں تاخیر ہو رہی تھی : واعلم ان معك اثنى عشر الف رجل ولا يغلب تم کو جاننا چاہئے کہ تمھارے ساتھ بارہ ہزار آدمی ہیں اثنا عشر الفا من قلة (كنز العمال، جلد ۳، صفحه ۱۵۱) اور بارہ ہزار کبھی قلت کی وجہ سے شکست نہیں کھاتے۔ فاروق اعظم رض کے ان اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ تین سو آدمی انقلاب لانے کے لئے بالکل کافی ہیں ۔ اور اگر یہ تعداد بارہ ہزار تک پہنچ جائے تو پھر فرق ثانی کی کسی بھی تعداد کے مقابلہ میں محض عددی کمی کی بنا پر انھیں شکست نہیں ہوسکتی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں ایک ایک اسلامی جماعت، بعض اوقات ایک ایک مسلم قائد لاکھوں کی تعداد میں ساتھی اور کارکن ملے مگر وہ اسلام کی تاریخ میں ناکامی کی مثالوں کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرسکے۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان جماعتوں یا اشخاص کی تحریکوں میں یقیناً کوئی بنیادی خامی تھی جس نے ان کے اخلاص اور قربانی کے با وجود نتیجہ کو ان کے خلاف کر دیا۔ مقام آغاز اس سلسلے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس ابتدائی سرے کو دریافت کیا جائے جہاں سے احیائے دین کی جد و جہد کا آغاز کیا جا سکتا ہو۔ پیغمبر اسلام کو جب حکم ہوا کہ دعوت حق کا عام اعلان کر دیں۔ تو آپ صفا کے ٹیلے پر چڑھے اور مکہ کے لوگوں کو آواز دے کر بلایا۔ یہ طریقہ مکہ میں کسی خصوصی قومی اعلان کے لئے معروف تھا۔ لوگ جمع ہوئے تو آپ نے تقریر کی : انکم لتموتون كما تنامون ولتحيون كما بلا شبہ تم مرو گے جس طرح تم سوتے ہو، اور یقیناً تم تستيقظون وانها الجنة ابدا او لنا را ابدا اٹھائے جاؤ گے جیسے تم جاگتے ہو۔ اور یقیناً اس کے (جمهرة خطب العرب) بعد یا تو دائمی جنت ہے یا دائمی جہنم۔ گویا آپ کے نزدیک دین خداوندی کے قیام کی جد و جہد کا آغاز یہاں سے ہوتا تھا کہ لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔ مگر ابو لہب کو یہ سر نظر نہ آیا۔ اس نے کہا: تبأ لك ساير اليوم الهذا اجمعتقنا تمھارا ایسا ہو، کیا اسی بات کو بتانے کے لئے ہمیں مشکوۃ - باب الانذار والتذحیر جمع کیا تھا۔ ابو لہب کے نزدیک عرب کی ملت ابراہیمی جن مسائل سے دوچار رکھتی ، ان کا اس تقریر سے کوئی تعلق نہ تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page