Urdu book · اسلام

موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ عرب کی پچھڑی ہوئی قوم کو دوسری متمدن قوموں کے مقابلہ میں اٹھانے کا خواب جو وہ دیکھ رہا ہے اس کا نقطہ آغاز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مذکورہ بالا قسم کے عقیدہ کی تبلیغ شروع کر دی جائے۔ اس اعتبار سے مقام محمدی یہ ہے کہ " انذار و تبشیر " کا کام احیائے ملت کا اصل ابتدائی کام نظر آئے اور مقام بولہی یہ ہے کہ اس قسم کی باتوں کو سن کر آدمی کہے کہ " یہ بھی کوئی پروگرام ہے "۔ اجتماعی جدوجہد کے سلسلے میں ہمیشہ بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ جدوجہد کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔ یہی سوال احیائے اسلام سے متعلق بھی ہے۔ یہاں بھی پہلا کام یہ ہے کہ مختلف عوامل کے درمیان اس موافق سرے کو تلاش کیا جائے جس کو پکڑنے کے بعد بقیہ عوامل خود بخود ہاتھ آتے چلے جائیں۔ قرآن نے اہل اسلام کے لئے ہمیشہ کے طور پر طے کر دیا کہ تمھارے لئے مقام آغاز دعوت ہے۔ یہی قرآن سے ثابت ہے (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ٭ قُمْ فَأَنْذِرْ) اسی کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں عمل کیا (إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ كُنْتَ عَلَيْهِمْ بمحيط ، فاشیہ) اسلام کی تاریخ میں جہاں جہاں اس طریقہ کو اختیار کیا گیا، اہل اسلام کو دائمی کامیابی حاصل ہوئی، جہاں اس کی خلاف ورزی کی گئی، مسلمانوں کو بالآخر سخت ترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد کی تاریخ میں اسلام کی پیش قدمی کی جو مثالیں ہیں ان کو تین بڑی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : دعوت کی راہ سے (مثال کے طور پر مصر) سیاست کی راہ سے (برصغیر ہند) مادی ترقیات کی راہ سے (اسپین) دعوت کی راہ سے اسلام جن علاقوں میں داخل ہوا، وہاں اسلام کا دائمی غلبہ قائم ہو گیا۔ ایسی قوموں کے نہ صرف عقائد و رسوم بدل گئے بلکہ ان کی زبان ، ان کی تہذیب ، ان کے سماجی ادارے سب اسلام کے رنگ میں رنگ گئے۔ سر آر تھر کیتھ (۱۹۵۵ - ۱۸۶۶) نے مصر کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے : " مصر کی بعد کی تاریخ میں بازنطینی سلطنت کا خاتمہ اور عرب سلطنت کا قیام (ام ۔ ۶۳۹) عمل میں آیا۔ پندرہ ہزار سے بھی کم تعداد کی عرب فوج نے ایک ایسے وقت میں یہ کامیابی حاصل کی جب کہ مصریوں کی آبادی کئی ملین تھی۔ مصریوں پر عربوں کی فتح تلوار کے ذریعہ نہیں بلکہ قرآن کے ذریعہ تھی۔ جب مصریوں نے قرآن کو پڑھنا سیکھا تو انھوں نے ایک نئی زبان کو بولنا بھی سیکھ لیا۔ یعنی عربی نہ بان کو ۔ قرآن نے مصریوں کو عربی بولنے والا بنا دیا۔ Sir Arthur Keith, A New Theory of Human Evolution, London, Watts & Co. 1950, p. 303 موسیولوبون نے یہی بات ان لفظوں میں لکھی ہے " وادی نیل پر ایرانیوں ، یونانیوں اور رومیوں نے بھی حکومت کی۔ مگر وہ یہاں قدیم فرعونی تہذیب کے بجائے اپنا تمدن رائج نہ کر سکے۔ مگر عربوں نے مصر کو عرب اور مسلمان بنا دیا۔" دیگر قوموں کے پاس صرف تلوار کی طاقت تھی۔ اس لئے وہ فوجی غلبہ سے آگے کوئی اثر پیدا نہ کر سکیں ۔ اس کے عکس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page