موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
عربوں کے پاس قرآن کی طاقت تھی۔ اس طاقت نے مصریوں کے ذہن کو فتح کر لیا۔ حتیٰ کہ ان کا مذہب، اُنکی تہذیب، ان کی زبان، ہر چیز کو بدل ڈالا۔ محمد بن قاسم ۷۱۲ء میں موجودہ پاکستان میں داخل ہوا۔ تا ہم مورخین کے نزدیک برصغیر ہند میں مسلم عہد کا بانی شہاب الدین محمد غوری ہے۔ اس نے ۵۷۱ء میں ملتان کو فتح کیا اور ۱۱۹۲ء تک سارے شمالی ہند کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس کے بعد سے مغل سلطنت کے خاتمہ (۱۸۵۷ء) تک ایک طویل مدت ہے جب کہ مسلمان اس ملک میں سیاست و تلوار کی راہ سے غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر جب انقلاب آیا تو ان کی عظمت کا محل اس طرح مسمار ہو گیا گویا اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اسپین کی تاریخ اس سے بھی زیادہ درد ناک ہے۔ یہاں مسلم حکمرانی کا عہد سات سو سال (۷۹۲ء - ۱۴۹۲ء) تک پھیلا ہوا ہے۔ مسلمانوں نے یہاں مادی ترقی کا جو کارنامہ دکھایا، اس سے اس وقت تک کی پوری انسانی تاریخ خالی ہے۔ حتیٰ کہ خود وہ مسیحی جنھوں نے مسلمانوں کو مغلوب کر کے اسپین سے نکالا، وہ مادی ترقی میں مسلمانوں سے بدر جہا زیادہ پیچھے تھے۔ مسلمانوں نے اس زمانہ میں فلکیات کے مطالعہ کے لئے جگہ جگہ رصد گاہیں قائم کی تھیں۔ اشبیلیہ کی رصد گاہ کے بارے میں ڈریپر (۱۸۸۲ - ۱۸۱۱) نے لکھا ہے کہ اسپین سے مسلمانوں (Moors) کے نکلنے کے بعد یہ رصد گاہ کلیسا کے گھنٹہ گھر میں تبدیل کر دی گئی۔ کیونکہ اسپینی باشندے اس کے استعمال کا کوئی اور طریقہ جانتے ہی نہ تھے۔ اس مادی تفوق کے باوجود اسپین اس طرح مسلمانوں سے خالی ہوا کہ چند در و دیوار کے سوا وہاں ان کا کوئی نشان باقی نہ رہا۔ تاریخ کا یہ تجربہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اسلام کا یہ اصول انتہائی حکمت پر مبنی ہے کہ اسلامی جد وجہد کا نقطۂ آغاز ہمیشہ دعوت کو بنایا جائے۔ دعوت و تبلیغ کو یہ مقام دے کر گویا بتا دیا گیا کہ زندگی کا وہ اصل سرا کون سا ہے جس کو پکڑ کر تم پوری زندگی کو پکڑنے میں کامیاب ہو سکتے ہو۔ یہ وہ دار ہے جو دشمن تک کو مفتوح کر لیتا ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جس کا راستہ نہ سمندر اور پہاڑ روک سکتے اور نہ توپ و تفنگ۔ موجودہ دور میں اٹھنے والی تحریکوں کو جب ہم اس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ یہ تحریکیں اسلامی - سیاسی تحریکیں تھیں نہ کہ اسلامی۔ دعوتی تحریکیں، تقریباً ہر تحریک نے سیاسی مسائل کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنایا۔ جب کہ دعوتی طریقہ کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی پیغام رسانی کو جد وجہد کی بنیاد بنایا جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کسی تحریک نے اپنے عمل کا آغاز وہاں سے نہیں کیا جہاں سے حقیقتاً اسے آغاز کرنا چاہئے۔ اور جس سفر کا آغاز ہی درست سمت میں نہ ہو، وہ منزل پر کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ اس انداز تحریک کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ان تحریکوں کے واسطے سے جو لوگ اسلام سے متاثر ہوئے ان میں عام دنیوی تحریکوں جیسا سیاسی مزاج پیدا ہو گیا۔ جب کہ صحیح اسلام یہ ہے کہ آدمی کے اندر آخرت پسندانہ مزاج پیدا ہو۔ نتیجہ ظاہر ہے ۔ ان تحریکوں کے ذریعہ نہ اجتماعی سطح پر اسلام کا حقیقی ظہور ہو سکا اور نہ انفرادی سطح پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader