شاکلہ
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
شاکلہ دوسری چیز شاکلہ کا مسئلہ ہے۔ مخصوص اسباب کے تحت ہر شخص اور قوم کا اپنا ایک فکری سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی فکری سانچے کے اندر سوچتا ہے اور اسی کے مطابق کسی چیز کو صحیح اور کسی چیز کو غلط سمجھتا ہے۔ وہ اکثر بھول جاتا ہے کہ اصل حقیقت وہ نہیں ہے جو اس کے اپنے ذہنی سانچے میں دکھائی دے رہی ہے، جو محض اتفاق سے ایک خاص شکل میں بن گیا ہے۔ بلکہ اصل حقیقت وہ ہے جو خدا کے علم میں ہے اور جس کو اس نے اپنی کتاب میں واضح کیا ہے: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ کہہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر چل رہا ہے سو تیرا رب خوب سَبِيلًا (اسراء - ۸۴) جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔ بنی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں جس ” شاکلہ “ سے سابقہ پیش آیا، اس کی ایک مثال یہودی ہیں۔ یہود دیکھتے آئے تھے کہ انبیاء جو پیدا ہوتے ہیں وہ اسرائیلی نسل کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے ان کے ذہن میں بیٹھ گیا کہ نبوت اسرائیل کے خاندان کا حصہ ہے۔ جب پیغمبر آخر الزماں خاندان ابراہیم کی اسماعیلی شاخ میں پیدا ہوئے تو انھیں اپنے ذہنی سانچہ کے اعتبار سے یہ بات ناقابل قیاس نظر آئی۔ انھوں نے ” اسماعیلی نبی “ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ نبوت کسی خاندان کی اجارہ داری نہیں، یہ اللہ کی دین ہے جس کو چاہے دے دے: أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ کیا وہ حسد کرتے ہیں ان لوگوں (بنی اسمعیل) کا اس پر فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے۔ سو ہم نے دے دی وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا اولاد ابراہیم (بنی اسمعیل) کو کتاب (موعود) اور حکمت (نساء - ۵۵ اور ان کو دے دی ہم نے ملک عظیم (آسمانی بادشاہت جس کی خبر اسرائیلی انبیاء نے دی تھی) اسی طرح یہود جس مذہب سے آشنا تھے، وہ مذہب وہ تھا جو سوختنی قربانی کی تعلیم دیتا تھا۔ ذبیحہ والی قربانی جس کو آگ نہ کھائے، بلکہ انسان کھائیں، ان کی سمجھ میں نہ آتی تھی۔ ان کے مذہبی شاکلہ کے لئے یہ بات ناقابل فہم تھی کہ ایسے مدعی رسالت کو رسول مانا جائے جو سوختنی قربانی کی تعلیم نہ دیتا ہو۔ اَلَّذِينَ قَالُوا اِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم نہ مانیں کسی حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ پیغمبر کو یہاں تک کہ لا دے ہمارے پاس قربانی کہ (آل عمران - ۱۸۳) کھا جائے اس کو آگ۔ یہود کے اس شاکلہ کو توڑنے کے لیے جو کوششیں کی گئیں، وہ قرآن کی ابتدائی سورتوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader