شاکلہ
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی جدید تاریخ بھی ’’شاکلہ‘‘ کے اسی مسئلہ سے دوچار ہے۔ جس طرح افراد کا ایک شاکلہ ہوتا ہے، اسی طرح قوموں کا بھی شاکلہ ہوتا ہے۔ قومیں اپنے شاکلہ (ذہن ساخت) کے مطابق چلتی ہیں اور اسی کے زیر اثر ترک و اختیار کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب پیغمبر اسلام کی بعثت ہوئی، عرب کا شاکلہ شرک پر مبنی تھا۔ خاندانی ڈھانچے سے لے کر سیاسی نقشوں تک ہر جگہ شرک کا شاکلہ فیصلہ کن بنا ہوا تھا۔ اس اجتماعی فضا میں مذہب توحید کی گنجائش اسی وقت نکل سکتی تھی جب کہ اس شاکلہ شرک کو توڑ دیا جائے۔ پیغمبر اسلام نے زبردست جدوجہد کرکے اس شاکلہ کو توڑ دیا۔ ایک انتہائی طور پر جامع الصفات شخصیت نے ساری ممکن قوتیں تمام تر اسی ایک نقطہ پر مرکوز کردیں۔ محنت، اخلاص، قربانی، استدلال، غرض اس راہ میں آپ نے وہ سارے ثبوت کامل درجہ میں پیش کردیے جو انسانوں کو متاثر کرنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اس کے بعد نتائج ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ پہلے انفرادی ذہن بدلے، پھر بعض قبائل نے مجموعی طور پر اثر قبول کیا۔ پھر فتح مکہ (۸ھ) کے دن جب مرکز عرب (کعبہ) میں رکھے ہوئے تمام قبائل اور مذاہب کے بت لوگوں کے سامنے توڑ دیئے گئے تو ان کا مشترکانہ شاکلہ آخری طور پر ٹوٹ گیا، وہ سمجھ رہے تھے کہ محمد ان بتوں کی توہین کر رہے ہیں جو ان کے عقیدہ کے مطابق نظام اسباب پر حکمراں ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ ان پر ان بتوں کا عذاب نازل ہو۔ اس کے برعکس جب انھوں نے دیکھا کہ تقریبا چار سو بتوں کا خاتمہ کر دیا گیا اور نہ آسمان پھٹا اور نہ کہیں زلزلہ آیا تو انھیں یقین ہو گیا کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ ’’فتح‘‘ نے ان کا مشترکانہ شاکلہ آخری طور پر توڑ دیا۔ اور وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ (نصر) اس طرح انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، سارے عالم کا طرز فکر جو اس سے پہلے شرک پر مبنی تھا، توحید کے زیر اثر آ گیا ۔ دنیا کے تمام مذاہب، تمام فکری مدرسے، تمام تحریکیں اس سے مرعوب ہو کر رہ گئیں۔ مذہب کے دائرے میں ہر جگہ پاپائیت اور برہمنیت کی شکل میں پیشوایان دین کو رب بنا لیا گیا تھا۔ اب نظر آیا کہ سب انسان یکساں ہیں اور خدا کی نظر میں صرف بندے ہیں۔ اس طرح بندوں کی پرستش کا دور ختم ہو کر خدا کی پرستش کا دور شروع ہوا۔ کائنات کے مظاہر جن کو اس سے پہلے دیوتا سمجھا جانے لگا تھا، ایک خدا کی مخلوق قرار پائے۔ اس کے نتیجہ میں تاریخ میں پہلی بار ان کی تسخیر کا ذہن پیدا ہوا۔ جس کی ابتدا بغداد اور قرطبہ اور صقلیہ میں ہوئی اور بالآخر یورپ پہنچ کر موجودہ سائنسی انقلاب کی بنیاد بنا۔ سیاست کا یہ حال تھا کہ شاہی خاندان کے افراد الوہیت کا پیکر سمجھے جانے لگے تھے۔ اب لوگوں کو نظر آیا کہ وہ ہماری طرح خدا کے بندے ہیں۔ اس طرح وہ نیا سیاسی ذہن ابھرا جس نے شورائی خلافت کی بنیاد رکھی اور بعد کو یورپ پہنچ کر جمہوریت اور آزادی کے انقلاب کی صورت میں رونما ہوا۔ یہ دور آغازِ اسلام سے لے کر یورپ کی نشأۃ ثانیہ تک پورے ایک ہزار سال تک باقی رہا۔ پچھلے مجددین عمر بن عبدالعزیز (۳۶، ۔ ۶۸۲) سے لے کر شیخ احمد سرہندی (۱۶۲۵ء۔ ۱۵۶۱ء) تک جو امت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader