شاکلہ
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اٹھے وہ سب اسی دور میں اٹھے۔ ان کا سامنا ایک ایسی دنیا سے تھا جہاں غیر اسلامی شاکلہ شکست کھا چکا تھا۔ اس زمانہ میں لوگوں کی گمراہی غفلت یا بے عملی کی نوعیت کی ہوتی تھی، نہ کہ بغاوت کی نوعیت کی۔ اس لئے سابق مجددین کی کوششیں صرف عمومی تذکیر و نصیحت سے بار آور ہوتی رہیں۔ جب وہ لوگوں کو اسلام کی طرف ”لوٹتے“ کے لئے کہتے تو وقت کا شاکلہ پوری طرح ان کا ساتھ دینے کے لئے موجود ہوتا تھا۔ ایک حدیث میں آیا ہے : عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یزال الناس یتساءلون حتی یقال علیہ وسلم نے فرمایا، لوگ سوال کرتے رہیں گے۔ ھذا " خلق الله فمن خلق اللہ"، فمن یہاں تک کہ کہا جائے گا۔ " خدا نے مخلوقات کو بنایا وجد فی نفسہ شیئاً من ذلک فلیقل آمنت تو خدا کو کس نے بنایا"، جو شخص اس قسم کی بات اپنے باللہ تعالی (صحیح مسلم، کتاب الایمان) اندر پائے تو وہ کہے کہ میں ایمان لایا اللہ تعالیٰ پر۔ یہ اُس آنے والے دور کی پیشین گوئی تھی جب کہ ”خالق“ کا مسلمہ ٹوٹ جائے گا اور دنیا کی گمراہی خدا کو مان کر اس کا شریک ٹھہرانے کے بجائے یہ ہوگی کہ وہ خود خدا ہی کو ماننے سے انکار کر دے۔ اس وقت اہلِ ایمان کا کام یہ ہوگا کہ وہ خالق کے عقیدہ کو از سر نو علمی مسلمہ بنانے کی کوشش کریں اور الحاد کی فکری بنیاد کو ڈھانے پر سارا زور صرف کریں جس طرح قرنِ اول میں شرک کی بنیاد کو منہدم کیا گیا تھا۔ جدید سائنسی انقلاب کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوتا ہے جب کہ انسانی شاکلہ دوبارہ ٹوٹ گیا اور قدیم شاکلہ کی جگہ ایک نیا شاکلہ وجود میں آیا جو تمام تر الحاد کی بنیاد پر قائم تھا۔ اس نئے دور کا آغاز اگرچہ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے ساتھ شروع ہو گیا تھا مگر نمایاں شکل میں وہ اٹھارویں صدی سے سامنے آیا ہے۔ اور اس طرح اب اس دور الحاد کو تقریباً دو سو برس گزر چکے ہیں۔ قدیم زمانہ میں بھی ایسے لوگ تھے جو خدا اور مذہب کو نہ مانتے ہوں۔ مگر ان کا نہ ماننا محض ایک انفرادی انکار کی حیثیت رکھتا تھا جب کہ موجودہ زمانہ میں انکار نے علم اور تحقیق کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ طبیعیات کی دریافت کہ سارا عالم اسباب و علل کے اصولوں پر قائم ہے اور یہ اصول اس قدر محکم ہیں کہ ان کو معلوم کرکے استعمال کیا جا سکتا ہے ، اس نے علمی دنیا میں یہ ذہن پیدا کیا کہ کائنات کو متحرک کرنے کے لئے کسی خدا کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اپنے قوانین کے تحت چل رہی ہے۔ حیاتیاتی ارتقا کی دریافت نے انسان کو بتایا کہ کائنات کے حسن اور معنویت کی توجیہہ کے لئے کسی خالق اور حکیم کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ معلوم اسباب ہی اس کے حسی اور معنویت کی توجیہہ کے لئے کافی ہیں۔ آلاتی ذرائع سے انسان کی قوت مشاہدہ کروڑوں گنا بڑھ جانے کے باوجود جب محسوس دنیا سے باہر کوئی " دوسرا عالم " نظر نہ آیا تو اس کے بعد یہ ذہن پرورش پانے لگا کہ موجودہ مادی دنیا کے ماسوا کوئی اور دنیا سرے سے اپنا کوئی وجود ہی نہیں رکھتی۔ قدیم زمانہ میں " چاند " ایک آسمانی دیوتا تھا۔ آج چاند انسان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader