شاکلہ
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
کے قدموں کے نیچے آچکا ہے۔ ان واقعات نے پورے انسانی فکر کو بدل دیا۔ ساری دنیا میں سوچنے کا ایک نیا سانچہ وجود میں آیا جس کو ہم نے ” شاکلۂ الحاد “ سے تعبیر کیا ہے۔ موجودہ دور میں تجدید و احیائے دین کی جو تحریکیں اٹھیں اور ناکام رہیں، ان کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ماضی کے مجددین پر قیاس کرتے ہوئے صرف روایتی طرز کی تذکیر و تشویق کو کافی سمجھا اور اس میں لگے رہے، حالاں کہ زمانہ دوبارہ لوٹ کر وہاں چلا گیا تھا جب کہ پہلا کام یہ تھا کہ وقت کے شاکلہ کو توڑنے پر ساری قوت صرف کردی جائے۔ کیونکہ جب تک شاکلہ نہ ٹوٹے، زمانہ حال میں اسلام کو اس کی صحیح جگہ نہیں دلائی جاسکتی۔ وقت کے شاکلہ کو توڑنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے، اس کی ایک مثال سوشلزم ہے۔ جدید سوشلزم سے پہلے ساری دنیا کا یہ مسئلہ تھا کہ ” ذاتی ملکیت ہر حال میں محترم ہے “، یہ بالکل ناقابل تصور تھا کہ کسی کی ذاتی ملکیت کو اس سے چھین لیا جائے۔ ایسا کرنے والا لوگوں کی نظریں غاصب اور ظالم شمار ہوتا تھا۔ مگر آج یہ اقتصادی شاکلہ ٹوٹ چکا ہے۔ آج ساری دنیا میں ذاتی ملکیت کی جگہ ” سماجی مفاد “ نے اہمیت حاصل کر لی ہے اور حکومت کا یہ حق عام طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ وہ سماجی مفاد کے نام پر جس چیز کو چاہے اپنی ملکیت میں لے لے۔ یہ شاکلہ کیسے ٹوٹا۔ اس کی طویل تاریخ ہے جو تقریباً ایک صدی تک پھیلی ہوئی ہے۔ ” سوشلزم “ کی اصطلاح، موجودہ اقتصادی معنوں میں، پہلی بار ۱۸۲۶ء میں ایک برطانوی اخبار کو آپریٹو میگزین میں استعمال کی گئی۔ اس کے بعد سے بے شمار مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے اس نظریہ کی حمایت میں اعلیٰ ترین کتابیں لکھ کر دنیا کے ادب کو سوشلسٹ لٹریچر سے پاٹ دیا۔ صرف مارکس نے ۳۵ سال کے مطالعہ کے بعد اپنی کتاب لکھی۔ اس کے بعد اس فکری سیلاب کے نتیجہ میں درجنوں بڑی بڑی تحریکیں وجود میں آئیں ــ سوشلزم، بالشوئزم، فبین ازم، کرسچین سوشلزم، کمیونزم، سنڈیکیلم، کلکٹو زم، گلڈ سوشلزم وغیرہ۔ اس کے علاوہ ساری دنیا میں لبر تحریکوں اور ٹریڈ یونینوں کا جال بچھ گیا۔ ۱۹۱۷ء میں روس میں اشتراکی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے سوشلسٹ خیالات کی اشاعت کا کام ایک منظم حکومت کی سطح پر ہونے لگا جس نے اس کی مقدار اور نوعیت میں ہزاروں گنا زیادہ اضافہ کر دیا۔ اس طرح یہ ممکن ہو سکا ہے کہ زمین کے ایک بڑے حصہ پر لوگوں کی نجی ملکیتیں منسوخ کرکے سوشلسٹ نظام قائم ہو اور دنیا کا ذہن انھیں ایک جائز اقتصادی کارروائی کی حیثیت سے تسلیم کرلے۔ موجودہ زمانہ میں الحاد کا شاکلہ توڑنے کے لئے بھی اسی قسم کی طویل اور عمیق جد و جہد درکار ہے ۔ اس کے بغیر آج کی دنیا میں اسلام کو اس کی جگہ نہیں دلائی جاسکتی۔ خلافت تحریک یا اتحاد اسلامی (پان اسلام ازم) کی تحریک اپنی ساری وسعتوں کے باوجود ناکام ہوگئی۔ اس کی وجہ حقیقتاً کوئی ” سازش “ نہ تھی۔ بلکہ وقت کے عالمی حالات نے اس کو ختم کیا۔ جب افکار کا سیلاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader