Urdu book · اسلام

شاکلہ

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

ساری دنیا کو جغرافی قومیتوں کی طرف لے جارہا ہو تو آپ اس کے خلاف کوئی آفاقی جزیرہ نہیں بنا سکتے۔ الّا یہ کہ جوابی سیلاب کے ذریعے آپ عالمی افکار کو تبدیل کرچکے ہوں۔ مصر میں اخوان المسلمین کی ناکامی کا ذمہ دار کوئی "معاند اسلام " نہیں ہے۔ اس کی وجہ اسلام کے علم برداروں کا یہ معصومانہ اندازہ ہے کہ وہ اجتماعیات کے بارے میں عوامی طرزِ فکر کو بدلے بغیر اپنے ملک میں اسلام کا سیاسی مینار کھڑا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے اسلام پسندوں کو اسلامی حکومت کے قیام میں ناکامی ہوئی۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ انھوں نے وقت کے تقاضوں کے علی الرغم یہ فرض کر لیا کہ وہ بیلٹ بکس کے ذریعہ اسلامی انقلاب کو برآمد کر سکتے ہیں۔

جدید مسئلہ وہ چیز جس کو ہم " اسلام کا جدید مسئلہ " کہتے ہیں، اس کی ابتدا پانچ سو برس پہلے ہوئی جب کہ ایک طرف پرتگالی ملاح واسکو ڈی گاما (۴۱۵۲ - ۱۵۲۴ء) نے مشرق و مغرب کے درمیان سمندری راستہ معلوم کیا ۔ اور دوسری طرف اطالوی جہاز راں کرسٹوفرکولمبس (۱۵۰۶ - ۱۴۵۱ء) نے اٹلانٹک کو پار کر کے پرانی دنیا اور نئی دنیا کو بحری طور پر مربوط کر دیا۔ ان دریافتوں کے بعد سمندری جہاز رانی بالکل نئے دور میں داخل ہوگئی۔ پندرھویں صدی تک یورپ سے ہندوستان آنے کے دو راستے تھے ۔ ایک خشکی کا، دوسرا شام و مصر ہو کر بحری راستہ ۔ یہ دونوں عربوں کے ہاتھ میں تھے۔ اس وقت عرب تجار جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں پر چھائے ہوئے تھے اور ان کی تجارتی کامیابیوں کے جلو میں اسلام کی اشاعت اس علاقہ میں تیزی سے ہورہی تھی۔ مالابار میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ہوگئی تھی کہ وہاں کے ہندو راجہ کی طرف سے ان کے معاملات فیصل کرنے کے لئے ایک مسلمان قاضی مقرر کیا گیا جس کو ہنر من (ہنر مند ) کہتے تھے۔ عرب تجار خلیج فارس کی بندرگاہوں سے، جن میں مشہور سیراف اور بصرہ ہے، سندھ آتے اور یہاں سے سمندر کے کنارے کنارے کو کن اور گجرات کے سواحل سے گزر کر مدراس کے سواحل پر پہنچتے، پھر یہاں سے لنگر اٹھاکر مشرقی بنگال اور آسام کو عبور کر کے چین کی راہ لینے۔ راستہ میں مالدیپ، سیلون، سنگاپور، جاوا، سوما ترا اور دوسرے جزائر کی طرف بھی نکل جاتے ۔ ان کی یہ تجارتی گزرگاہیں اشاعت اسلام کی کوششوں کا مرکز بن گئی تھیں ۔ مگر پندرھویں صدی کا خاتمہ ان کوششوں کا بھی اختتام بن گیا۔ ۱۴۹۸ء میں واسکو ڈی گاما کیپ کے راستہ سے ہندوستان کے جنوبی ساحل (کالی کٹ) میں داخل ہوا۔ البو فرق نے ۱۵۱۵ء میں ملکا پر قبضہ کر کے بحرہند میں پرتگالیوں کی بحری طاقت قائم کی۔ گو آپرتگالیوں کے قبضہ میں آگیا۔ اکبر (۱۶۰۵ - ۱۵۳۰ء) کے زمانہ تک پرتگالی بحرمند میں اس حد تک دخیل ہو چکے تھے کہ ان حاتمیوں کو جو ہندوستان سے مکہ جاتے تھے اور جن میں بعض اوقات شاہی خاندان کے لوگ اور امرا بھی ہوتے تھے، پرتگالی اکثر راستہ میں لوٹ لیتے تھے۔ ایک مورخ کے الفاظ میں "خشکی پر نقلِ اعظم کا جھنڈا کیوں نہ ہو، سمندر کے مالک پرتگالی تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page