Urdu book · اسلام

عبادت کے تقاضے

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ انفرادی اطاعت ہر صاحب ایمان پر خدا کا لازمی حق ہے۔ کوئی شخص ہرگز خدا کے یہاں عابد شمار نہیں کیا جا سکتا اگر وہ اپنی عملی زندگی میں ان احکام کی تعمیل نہ کر رہا ہو جو اس کے حالات اور معاملات میں اس کے اوپر خدا کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔ "عبادت"، اگر اپنی روح کے اعتبار سے اندرونی حواگی کا نام ہے تو خارجی اعتبار سے یہ مطلوب ہے کہ انسان اپنے ظاہر کو پوری طرح خدا کی اطاعت میں دے دے۔ اس کی خارجی زندگی بالکل خدا کے بتائے ہوئے نقشہ کی تابع ہو جائے۔ ہر مومن اور مومنہ پر لازم ہے کہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے جن جن معاملات سے اس کا سابقہ پیش آئے، ان میں وہ مکمل طور پر خدا کی اطاعت کرے اور دوسری ترغیبات کی پیروی کرنا چھوڑ دے : یا ایھا الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافة ولا تتبعوا اے ایمان لانے والو، تابعداری میں پورے پورے داخل خطوات الشیطان انہ لكم عدو مبین بقرہ - ۲۰۸ ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، وہ تمھار اکھلا ہوا دشمن ہے۔ احکام کے جس مجموعے کے لئے ہم نے "اطاعت" کا عنوان اختیار کیا ہے، اس کی دوسری قسم وہ ہے جس کو ہم اجتماعی احکام کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہ احکام ہیں جن کی تعمیل کسی ایک صاحب ایمان کی مرضی پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس وقت رو عمل آتے ہیں جب پورا معاشرہ ان کو عمل میں لانے کے لئے تیار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ احکام ہمیشہ اس وقت نازل ہوئے جب اہل ایمان نے اپنے درمیان سیاسی تنظیم قائم کر لی، اور وہ اس حیثیت میں ہو گئے کہ اس قسم کے اجتماعی قوانین کو بہ زور نافذ کر سکیں۔ شریعت کے اجتماعی احکام کا مخاطب با اختیار مسلم معاشرہ ہے نہ کہ متفرق اور منفرد اہل ایمان۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک وہ قبطی اقتدار کے تحت مصر میں تھے انہیں تو رات کے قانونی احکام نہیں دیئے گئے۔ البتہ مصر سے نکل کر وہ صحرائے سینا میں پہنچے اور انھیں آزاد اور با اختیار گروہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے قوانین بھیج دیئے گئے۔ (خروج ۱۵ : ۲۵) ٹھیک یہی صورت عرب میں اختیار کی گئی۔ یکی دور میں جب کہ اہل ایمان بے اختیار اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے، شریعت کا وہ اصولی حصہ انرا جس کو قائم کرنے کے لئے اجتماعی اقتدار کی ضرورت نہیں۔ ہر مسلمان اپنے ذاتی فیصلہ سے اس کو اپنی زندگی میں اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بقیہ شریعت حالات کی نسبت سے بھیجی جاتی رہی۔ اجتماعی زندگی سے متعلق تفصیلی ہدایات مدینہ میں اس وقت نازل کی گئیں جب کہ اہل ایمان کو زمین پر اقتدار حاصل ہو گیا۔ احکام نازل ہونے کی یہ ترتیب بتا رہی ہے کہ عام حالات میں اہل ایمان پر دین کا صرف اتنا ہی حصہ مشروع و مفروض ہوتا ہے جتنا دور اقتدار سے قبل اترتا ہے۔ اس کے علاوہ بقیہ احکام کی تعمیل ان پر اس وقت فرض ہوتی ہے جب انھیں اقتدار اور حکومت کے مواقع حاصل ہو جائیں جو اس طرح کے احکام کے نفاذ کے لئے ضروری ہے۔ شرعی احکام کا دائرہ عمل کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اتر نا خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ احکام مطلقاً مطلوب نہیں بلکہ حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں۔ ان کا تعین ہمیشہ اس شخص یا گروہ کے واقعی حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے جو اس کا مخاطب ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تمدنی اور اجتماعی احکام کا مخاطب صرف اہل ایمان کا وہ گروہ ہے جو ان احکام کو عمل میں لانے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page