Urdu book · اسلام

شاکلہ

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

پرتگالیوں نے ہندستانی سمندر پر قبضہ کرکے عربوں سے جنوبی ہند کی تجارت چھین لی۔ عربوں کے لئے بحری راستہ سے ہندوستان میں آنا ممکن نہ رہا جو نہ صرف سفر کے لئے بلکہ تجارتی سامان منتقل کرنے کے لئے بھی سب سے آسان ذریعہ تھا۔ جنوبی ہند سے عرب تجارت کا تعلق منقطع ہونے کے بعد اس پورے علاقہ میں اسلام کی اشاعت کا کام رک گیا۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔ واسکوڈی گاما کے انتقال کے ۴ سال بعد شیخ احمد سرہندی (۱۲۶۵۔ ۱۵۶۷) پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا زمانہ ٹھیک وہی ہے جب کہ جنوبی ہند کے ساحل پر وہ واقعہ رونما ہو چکا ہے جو بالآخر اس ملک کی نئی تاریخ بنانے والا ہے۔ مگر انہیں اس واقعہ کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ایک طرف عالم بالا میں ان کی روحانی پرواز اتنی بلند ہوتی ہے کہ وحدت وجود کی پیچیدہ بحث پر مجتہدانہ فیصلہ دے سکیں۔ مگر وہ خود اپنے ملک کے اس واقعہ سے بے خبر رہتے ہیں کہ مغربی قو میں بحری طاقت کو ترقی دے کر ملک کے ساحل پر قبضہ کر رہی ہیں جو بالآخر یہاں تک پہنچنے والا ہے کہ مدراس سے لے کر ممبئی اور کلکتہ تک پورا ساحلی ہندوستان ان کے قبضہ میں چلا جائے اور دہلی کی سلطنت ان کے مقابلہ میں بے بس ہو کر رہ جائے۔ وہ اکبری فتنوں کو دیکھتے ہیں اور ان کی اصلاح کی تدبیر کرتے ہیں مگر پرتگالی فتنے انہیں نظر نہیں آتے جو بعد کو پیدا ہونے والے نتائج کے اعتبار سے بدرجہا زیادہ شدید ہیں۔ سلطان ٹیپو کا باپ حیدر علی (۱۷۸۲۔ ۱۷۲۲) پہلا شخص تھا جس نے بحری طاقت کی جدید اہمیت کو محسوس کیا۔ اس نے مالدیپ کے جزیرہ میں بحری جہازوں کا کارخانہ قائم کرنے کی بھی کوشش کی، مگر اب وقت گزر چکا تھا، وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ دور جدید میں قوت اور غلبہ کا عنصر جس چیز نے پیدا کیا وہ مشین ہے۔ مشینی انقلاب کا آغاز اسٹیٹم کی دریافت سے ہوتا ہے۔ یعنی بھاپ کی طاقت کا صنعتی استعمال۔ اسٹیم انجن کی دریافت نے جدید صنعت کو ممکن بنایا۔ اس سے پہلے آدمی اپنی عضلاتی طاقت یا حیوانات سے کام لیتا تھا یا بعض حالات میں پانی اور ہوا کو استعمال کرتا تھا۔ اب ایک انجن ہزاروں گھوڑوں کا کام کرنے لگا۔ وہ کارخانہ کو طاقت فراہم کر سکتا تھا، وہ خشکی اور سمندر میں انسان اور اس کے اسباب کو لے کر تیزی سے دوڑ سکتا تھا۔ یہی مشینی طاقت ہے جس نے اہل مغرب کو اس قابل بنایا کہ وہ قدیم روایتی دنیا کو شکست دے کر اس کے اوپر قابض ہو جائیں۔ پہلا اسٹیم انجن جس نے دریافت کیا، وہ انگلستان کا ٹامس سیلوری (۱۵۱۵۔ ۱۶۵۰) ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ ٹامس سیلوری اور اورنگ زیب (۱۷۰۷۔ ۱۶۱۸) دونوں ہم زمانہ ہیں۔ ٹامس سیلوری نے اپنا پہلا اسٹیم انجن ۱۶۹۸ء میں پیٹنٹ کرایا۔ یہ وہی زمانہ ہے جب کہ ایک طرف ہندوستان کے تخت پر شہنشاہ عالم گیر حکمراں تھا جو دین اور سیاست دونوں کا جامع ترین نمونہ تھا۔ دوسری طرف ترکی کی عثمانی سلطنت پر سلطان احمد سوم (۱۷۳۶۔ ۱۷۰۳) تخت نشین تھا۔ مگر مغل سلطنت یا عثمانی سلطنت دونوں میں سے کسی کو بھی طاقت کے معیار میں اس انقلابی تبدیلی کی اس وقت تک خبر نہ ہوسکی جب تک کہ اس نے وسعت حاصل کرکے خود ان کے وجود کو ختم نہ کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page