Urdu book · اسلام

شاکلہ

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

دورِ جدید کا ایک اور واقعہ جو اسلامی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وہ پریس کی ایجاد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلا شخص جو لکڑی سے پرنٹنگ پریس بنانے میں کامیاب ہوا، وہ جرمنی کا گوٹن برگ (۱۴۶۸-۱۳۹۸) تھا۔ لندن کے ولیم نکلسن نے پہلی بار لوہے سے بنا ہوا اور مشین سے چلنے والا پرنٹنگ پریس پیٹنٹ کرایا۔ یہ ۱۷۹۰ کی بات ہے جب کہ محمد بن عبدالوہاب نجدی (۱۷۹۱ء - ۱۷۰۳) زندہ تھے اور "بدعات" کے خلاف اپنی تحریک میں اس حد تک کامیاب ہو چکے تھے کہ نجد کے ایک حاکم (محمد ابن سعود) نے ان کے نظریہ کو قبول کر لیا تھا۔ لندن ٹائٹس پہلا اخبار تھا جس نے اپنی اشاعت ۲۹ نومبر ۱۴۱۸ء کو اسٹیم انجن سے چلنے والے پریس کے ذریعہ چھاپا۔ اس وقت بڑی بڑی مسلم شخصیتیں موجود تھیں، مگر سارے عالم اسلام میں کوئی شخص نہیں ملتا جس نے بروقت اس بات کو محسوس کر لیا ہو کہ دنیا میں ایک نئی طاقت وجود میں آ گئی ہے جس کا نام پریس ہے اور جو عنقریب ساری زمینی دنیا کو اپنی پیٹ میں لے لے گی۔ پہلا شخص جس نے مصر میں چھاپہ کو رواج دیا وہ نپولین (۱۸۲۱ء- ۱۷۶۹) تھا۔ وہاں سے رفتہ رفتہ یہ فن دوسرے عرب ممالک میں پہنچا۔ اسلامی نقطہ نظر سے سب سے اہم اور دور رس واقعہ وہ ہے جس کو جدید سائنس کہتے ہیں۔ سائنس کے ظہور کے ابتدائی عناصر اگرچہ تاریخ میں بہت پہلے سے کام کر رہے تھے، تاہم وہ نمایاں وقت جب کہ انسانی تاریخ ایک دور سے نکل کر دوسرے دور میں داخل ہوئی، اس کا آغاز نیوٹن (۱۷۲۷ء- ۱۶۴۲) سے ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۶۲ء- ۱۷۰۳) پیدا ہوئے تو نیوٹن ابھی زندہ تھا۔ اور اس کی مشہور کتاب پرنسپیا (۱۶۸۷) وجود میں آ چکی تھی۔ مگر جب کہ اسلام کی حریف قومیں روایتی علم کے ڈھانچہ کو توڑ کر ایک نیا تسخیری علم وجود میں لا رہی تھیں، شاہ ولی اللہ روایتی ڈھانچہ سے باہر آ کر مسئلہ کو سمجھنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ انھوں نے مردجہ تصوف کی نئی تشریح کو کافی سمجھا۔ ان کی کتاب حجۃ اللہ بالغہ جس کو انھوں نے اسرار دین کو بے نقاب کرنے کے لئے لکھا تھا، اپنی بہت سی خوبیوں کے باوجود زیادہ تر اسرار فقہ کو بیان کرنے والی کتاب ہے اور وہ بھی قدیم روایتی انداز میں۔ عالم لاہوت میں ان کی پرواز اتنی بلند ہوتی ہے کہ ان کو " الہام" ہونے لگتا ہے۔ وہ " قائم الزمان " مقرر کئے جاتے ہیں اور " فلاک کل نظام" کی خدمت ان کے سپرد ہوتی ہے۔ مگر ان کی کسی بھی تصنیف میں یہ سراغ نہیں ملتا کہ وہ اپنے وقت کے یورپ میں ہونے والے اس واقعہ سے باخبر تھے جو بالاآخر ساری اسلامی دنیا کے لئے تاتاریوں کی غارت گری سے بھی زیادہ بڑا سانحہ بننے والا تھا۔ پھر اسی زمانہ میں اس فکری انقلاب کی صورت گری ہوئی جس کو جمہوریت کہتے ہیں۔ فرانس کا جمہوری انقلاب (۱۷۸۹) اور امریکہ کی نو آبادیوں کا انگلستان سے علیحدہ ہو کر قومی حکومت بنانا (۱۷۸۳) اگر چہ شاہ ولی اللہ کے کے بعد پیش آیا، مگر ان واقعات کے فکری عوامل ان کے زمانے میں مکمل طور پر وجود میں آ چکے تھے۔ حتی کہ روسو (۱۷۷۸- ۱۷۱۲) اور شاہ ولی اللہ بالکل ہم عصر تھے۔ مگر وہ اس دور رس سیاسی طوفان کے سلسلہ میں مسلمانوں کو کوئی رہنمائی نہ دے سکے۔ ان کے نامور فرزند شاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۸۲۳- ۱۷۶۲) کے زمانے میں یورپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page