Urdu book · اسلام

شاکلہ

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

اور امریکہ کے جمہوری انقلابات وقوع میں آئے۔ اگر چہ ان کی سیاسی خدمات اتنی عظیم ہیں کہ ان کو ”سرج الہند“ کے خطاب سے نوازا گیا۔ مگر ان کے لئے بھی یہ ممکن نہ ہو سکا کہ مسلمانوں کو وہ روشنی دیں جس کے مطابق وہ دور جدید میں اپنی اجتماعی تحریک کی مؤثر منصوبہ بندی کر سکیں جب کہ ساری دنیا میں جمہوریت (دوسرے لفظوں میں اکثریتی طبقہ کی حکومت) کا اصول ایک سیاسی مسئلہ بن چکا تھا، ہندوستان میں علماء اور بزرگوں کی نسل در نسل وطنی قومیت کی بنیاد پر ایک ملکی حکومت کے قیام میں اپنا جان و مال قربان کر رہی تھی، جس سے حیرت انگیز طور پر وہ یہ توقع رکھتے تھے کہ مسلم اقلیت دوبارہ ملک میں غلبہ کا مقام حاصل کرے گی۔ جدید سیاسی تبدیلی سے وہ اس وقت تک با خبر نہ ہو سکے جب تک ۱۹۴۹ء کے انقلاب نے اپنا آخری فیصلہ دے کر انہیں مجبور نہ کر دیا کہ وہ حجرہ نشین ہو کر اپنی مقتول امنگوں کو حسرت کے ساتھ دیکھتے رہیں اور اسی حال میں اس دنیا سے چلے جائیں۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ احیائے ملت کے لئے اٹھے، انھیں کام کرنے کے بے پناہ موقع ملے۔ انڈونیشیا کے عبدالقہار مذکر (۱۹۰۳-۱۹۴۷) صدر سوئیچار نو کے قریبی دوست تھے، وہ صدر کے تعاون سے اپنے ملک میں دین کی ترقی اور استحکام کے ایسے بہت سے کام شروع کر سکتے تھے اور سوئیچار نو کے چلے جانے کے بعد بھی انڈونیشیا کی سماجی تشکیل میں اپنے اثرات ظاہر کرتے رہتے۔ مگر انھوں نے دستور کو اسلامی بنانے کے مسئلہ پر حکومت وقت سے لڑائی چھیڑ دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس حال میں اس دنیا سے چلے گئے کہ شکایت اور احتجاج کے سوا کچھ ان کے حصہ میں نہیں آیا تھا۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام مسلم ملکوں کا حال ہوا ہے۔ مصر و شام کا علاقہ مخصوص اسباب کی بنا پر سارے عالم اسلام کے درمیان فکری قائد کی حیثیت رکھتا ہے، قدرت نے بھی یہاں شخصیتوں کو پیدا کرنے میں نہایت فیاضی سے کام لیا۔ جمال الدین افغانی پہلی بار جب امیر شکیب ارسلان سے ملے تو ان کی زبان سے بے اختیار نکلا: انا هنا أرض الاسلام التى ابنتنك میں اس سرزمین اسلام کو مبارک باد دیتا ہوں جس نے تمھارے جیسا شخص پیدا کیا صرف اس علاقہ سے حالیہ دور میں جو بڑی بڑی شخصیتیں اٹھیں، اگر وہ عملی امکانات سے صحیح فائدہ اٹھاتیں اور ارباب اقتدار سے غیر ضروری تصادم کی غلطی نہ کرتے تو آج عالم اسلام میں ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو چکا ہوتا۔ چند نام ملاحظہ ہوں : حسن البنا مصری (۱۹۰۶ —— ۱۹۴۸) مفتی محمد عبدہ مصری (۱۹۰۵ —— ۱۸۲۹) رشید رضا شامی تھم مصری (۱۹۳۵ —— ۱۸۸۶) امیر شکیب ارسلان شامی (۱۹۴۶ —— ۱۸۶۹) سید محمد قطب مصری (۱۹۴۴ —— ۱۹۰۷)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page