شاکلہ
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کی درجنوں شخصیتیں جنھیں اس علاقہ میں کام کرنے کا موقع ملا، ان کی مجموعی مدتِ کار ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ انھیں نہ صرف عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی، بلکہ حکمراں طبقہ میں بھی ایسے با اثر لوگ موجود تھے جو انھیں دینی اصلاح کے کام میں اعلیٰ ترین مواقع دے رہے تھے۔ حکومتِ مصر کے زیرِ تعلیم مصطفیٰ ریاض پاشا (۱۹۱۱ء۔ ۱۸۳۴ء) جمال الدین افغانی کو تعلیمی اور اصلاحی کام میں ہر قسم کا حکومتی تعاون دینے کے لئے تیار تھے۔ مصر کے وزیرِ اعظم سعد زغلول پاشا (۱۹۲۷ء۔ ۱۸۶۰ء) مفتی محمد عبدہ سے متاثر تھے ۔ صدر جمال عبدالناصر (۱۹۷۰ء۔ ۱۹۱۸ء) نے مصر میں سید قطب کو وزارتِ تعلیم کے عہدہ کی پیش کش کی، وغیرہ۔ مگر بلا استثناء ہر ایک نے یہ کیا کہ حاصل شدہ مواقع کو چھوڑ کر ان مواقع کے پیچھے دوڑ پڑا جو ابھی حاصل نہ ہوئے تھے۔ انھوں نے کام اس کو سمجھا کہ اربابِ اقتدار سے سیاسی جنگ چھیڑ دی جائے۔ ان کے گرد و پیش ان کے لئے کرنے کے بہت سے اہم ترین کام موجود تھے ــــ مسلمانوں کی اخلاقی اصلاح، جدید دور کے اعتبار سے اسلامی ٹریچر کی تیاری، مسلم قوموں کو جدید صنعتی اور سائنسی معنوں میں طاقت ور بنانا، عالمِ عرب میں اتحاد پیدا کرنا، تیل کی عظیم قدرتی طاقت سے روشناس کرانا اور اس کو کار آمد بنانا، افریقہ کے غیر مسلم قبائل میں اسلام کی تبلیغ جو ایک بے پناہ امکان کی حیثیت سے صدیوں سے اس براعظم میں ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ افریقہ کے مسلم ممالک میں مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی پس ماندگی کو دور کرنا جس کی وجہ سے غیر مسلم عیسائی اقلیت ان کے اوپر چھائی ہوئی ہے۔ وغیرہ۔ مگر اپنے تمام تر اخلاص اور قربانی کے باوجود ان میں سے کسی کام کے لئے سرگرم نہ ہوسکے۔ موجودہ دور کے مسلم مصلحین سے ایک بڑی اجتہادی غلطی یہ ہوئی ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ جن ملکوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جہاں ان کا سیاسی اقتدار قائم ہے، وہاں وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ قانونِ اسلامی کے نفاذ کے مطالبہ سے اپنی مہم کا آغاز کرسکیں یہ ایک اندوہناک قسم کا غلط اندازہ تھا جس سے عملاً اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا کہ وہ اپنے ملکوں میں حزبِ مخالفت کا پارٹ ادا کر کے ختم ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم اقلیت کے ملکوں میں جو مسئلہ مقامی غیر مسلم اکثریت کی طرف سے ہے، وہی مسلم اکثریت کے ممالک میں عالمی حالات کی جانب سے ہے۔ مزید یہ کہ مسلم ملکوں کے تمام حکومتی شعبوں پر چونکہ وہی لوگ قابض ہیں جن کی تعلیم مغربی طرز کے اداروں میں ہوئی ہے کیونکہ وہی جدید دور کی ایک ریاست چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لئے مسلم ملکوں کا بر سرِ اقتدار طبقہ بھی، اسلام سے طبعی ہمدردی رکھنے کے باوجود، مزاجاً، اس حد تک جانے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے یہاں خالص مذہبی ریاست کے قیام کا اعلان کر دے۔ مصر، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ ان ملکوں میں موجودہ صدی کے وسط میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں، وہ اپنی ساری مقبولیت اور ترقی کے باوجود، اسلامی قانون کے نفاذ میں تو کامیاب نہیں ہوئیں، البتہ مسلم ملک ہونے کی وجہ سے وہاں ان کو اسلامی دعوت کے کام کو مؤثر طور پر چلانے کے لئے جو خصوصی مواقع حاصل تھے وہ بھی اختلافی اور احتجاجی سیاست کے نتیجہ میں برباد ہو گئے۔ رجاء بن حیوہ نے اموی حکراں سلیمان بن عبد الملک کی مصاحبت اختیار کر کے اس کو آمادہ کیا کہ وہ اپنے بعد خلافت کے منصب کے لئے عمر بن عبد العزیز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader