ملت کی تعمیر
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
ملت کی تعمیر اسلامی دعوت اگر ایسے علاقہ میں شروع ہو جہاں داعی کے سوا بقیہ لوگ اسلام کو نہ ماننے والے ہوں تو وہاں اسلامی دعوت کی مہم تمام تر انذار و تبشیر پر مرکوز رہے گی۔ لیکن اگر وہاں اسلام کو ماننے والے لوگ بھی موجود ہوں تو بشرط ضرورت ان کی تعمیر واستحکام کا کام کرنا بھی داعی کے فرائض میں داخل ہوگا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کی مثال میں نظر آتا ہے۔ آپ کو ایک طرف حکم ملاکہ فرعون اور مصر کی قبطی قوم کو آنے والے دن سے ہوشیار کریں (اذہبا الیٰ فِرْعَوْنَ اِنَّهُ طَغیٰ ، طہ ۴۳) دوسری طرف آپ کو یہ کام بھی سونپا گیا کہ آپ اس وقت کے مسلمان (بنی اسرائیل) کو فرعونی عذاب سے نجات دلائیں (فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِی اِسْرَاءِیلَ وَلاَ تُعَذِّبْھُمْ ، طہ ۔ ۴۷) اس دوسرے کام کو بائبل میں ” اپنی امت کو مصیبت سے چھڑانا “ کہا گیا ہے (اعمال ، ۷: ۳۴) وہ چیز جس کو دورِ جدید کہتے ہیں ، اس کا اثر سب سے زیادہ مسلمانوں پر پڑا۔ کیوں کہ جدید قوتوں کے بل پر جب مغربی قومیں دنیا کے اوپر چھا گئیں، تو یہ وہی دنیا تھی جس کے بڑے حصہ پر مسلمان غلبہ حاصل کئے ہوئے تھے۔ فطری طور پر اس کا رد عمل یہ ہوا کہ مسلمانوں کے اندر تعمیر نو کی تحریکیں بہت بڑے پیمانہ پر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان تحریکوں پر اب دو سو برس کی مدت گزر چکی ہے ، مگر آج بھی یہ ممکن نہ ہو سکا کہ مسلمان دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو حاصل کرلیں۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمان مسئلہ کی اصل نوعیت کو سمجھ نہ سکے اور سطحی اور جذباتی تدبیروں میں اپنا مستقبل تلاش کرتے رہے۔ روس کا اشتراکی انقلاب (۱۹۱۷) اور ترکی کا قومی انقلاب (۱۹۲۲) دونوں تقریباً ہم زمانہ ہیں۔ مزید یہ کہ روسی انقلاب کے بانی ولاد میر لینن (۱۹۲۴- ۱۸۷۰) کے مقابلہ میں ترک انقلاب کے بانی مصطفیٰ کمال آتاترک (۱۹۳۸۔۱۸۸۱) کو چودہ سال زیادہ زندہ رہنے اور کام کرنے کا موقع ملا۔ مگر حال یہ ہے کہ روس آج خلا میں اپنے راکٹ پھینک رہا ہے اور ترکی ابھی تک زمین پر بھی اپنے کو مستحکم نہ کر سکا۔ اس فرق کی وجہ محض اتفاقی نہیں۔ اس کے پیچھے گہرے تاریخی اسباب ہیں۔ کمال آتاترک کو جب ترکی میں اقتدار حاصل ہوا تو انھوں نے تعمیر وترقی کا راز اس میں سمجھا کہ وہ مغربی تہذیب کی مکمل نقالی کریں۔ انھوں نے قدیم ” مذہبی ریاست “ کے بجائے ترکی کو سیکولر اسٹیٹ بنایا۔ شرعی قانون کو ختم کرکے سوئٹزر لینڈ کا قانونِ دیوانی، اٹلی کا قانونِ فوجداری اور جرمنی کا قانونِ بین الاقوامی تجارت اپنے ملک میں رائج کیا۔ دینی تعلیم ممنوع قرار پائی۔ پردہ خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ مخلوط تعلیم کا نفاذ کیا گیا۔ ترکی زبان میں عربی حروف تہجی کی جگہ انتہائی بے رحمانہ طور پر لاطینی حروف جاری کئے گئے۔ عربی میں اذان دینا ممنوع قرار دے دیا گیا۔ حج کے لئے مکہ جانے کی اجازت ختم کردی گئی ۔ قوم کا لباس تبدیل کردیا گیا ہیٹ کو استعمال کرنا قانوناً لازمی قرار دے دیا گیا۔ حتیٰ کہ ترکوں کو ہیٹ پہنانے کی مہم نے ایک باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کرلی۔ بے شمار لوگ صرف اس لئے پھانسی پر چڑھا دیئے گئے کہ وہ اپنی قومی ٹوپی (طربوش) کو چھوڑ کر ہیٹ پہننے کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader