ملت کی تعمیر
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
تیار نہ تھے۔ لوگ گرفتار کئے جاتے اور محض اس جرم میں انھیں گولی ماری جاتی کہ انھوں نے ہیٹ کا مذاق اڑایا ہے یا اس کو سر پر رکھنے سے انکار کیا ہے۔ بالآخر شدید جنگ کے بعد جب ہیٹ پہنانے کی مہم کامیاب ہوئی تو مصطفیٰ کمال نے اپنی اس فتح کا اظہار اس طرح کیا کہ مکہ کی موتمر اسلامی (۱۹۲۶) میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ کے ایک ممبر ادیب ثروت کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ ادیب ثروت واحد نمائندہ تھے جو اس موتمر میں ہیٹ پہنے ہوئے شریک ہوئے اور دوسرے مسلمان نمائندوں نے انقباض کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ Irfan Orga Margarete, Ataturk, Michael Joseph Ltd. London, 1967, p. 265 دوسری طرف لینن نے روس میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد کیا کیا۔ اس نے ۱۹۲۲ میں بیرونی زبانوں سے ترجمہ کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس کا نام کمینولٹ (Cominolit) تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ بیرونی زبانوں کی سائنسی اور تکنیکی کتابوں کو جمع کرے اور ان کو روسی زبان میں منتقل کرے ۔ لینن اس کام کو اتنا اہم سمجھتا تھا کہ بے شمار دیگر مشغولیتوں کے باوجود وہ اس کی ذاتی نگرانی کرتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سوویت یونین میں سائنسی کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ یہ کام مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ آج یہ حال ہے کہ ایک سوویت جنرل جس کا نام Referativyi Zhurnal ہے وہ اپنی ہر اشاعت میں ۱۱ ملکوں کی ۷۰ زبانوں سے ایک ملین سائنسی اور تکنیکل مضامین کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ اس کام کی انجام دہی کے لئے اس جنرل میں ایک لاکھ ماہر مترجمین مقرر ہیں۔ آل یونین انسٹی ٹیوٹ فار سائن ٹفک اینڈ ٹکنیکل انفارمیشن تنہا ۲۵۰۰ مترجموں کا مستقل اسٹاف رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ۲۲ ہزار ترجمہ کے ماہرین اور ہیں جو اس میں جزوقتی کام کرتے ہیں۔ آج مملکت روس میں پانچ ہزار سے زیادہ سائنسی ادارے ہیں جن میں تقریباً دس لاکھ سائنسی کارکن کام کر رہے ہیں۔ روس کا تعلیمی نظام ایسار رکھا گیا ہے کہ آج وہاں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بیک وقت دو زبانوں میں لکھنے اور ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح کے مسلسل عمل ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ روس انسانی تاریخ کا پہلا ملک بنا جس نے ۱۹۵۷ میں پہلا اسپٹُنک خلا میں اُڑایا۔ آج روسی سائنس کی اتنی اہمیت ہے کہ روس کے ۲۵۰۰ سائنسی جنرل امریکہ میں منگائے جاتے ہیں اور وہاں از اول تا آخر لفظ بہ لفظ ان کا انگریزی ترجمہ کرکے انھیں شائع کیا جاتا ہے۔ ملت کی تعمیر و استحکام کا کام کن خطوط پر ہوگا ۔ قرآن میں اس کے تین خاص اصول ملتے ہیں : قیام کا حصول اتحاد قوتِ مرہبہ ۱۔ قرآن میں مال کو قیام کہا گیا ہے (أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَاماً، نساء - (۴) قیام کے معنی سہارا (Support) کے آتے ہیں۔ قام على عياله يا هو قيام اهله ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کہ یہ بتانا ہو کہ فلاں شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader