Urdu book · اسلام

ملت کی تعمیر

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے اہل وعیال کے لئے سہارا ہے۔ مال یا اقتصادیات کو اللہ تعالی نے اس دنیا میں انسان کے لئے معاشی سہارا بنایا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کے وہ تقاضے پورے کرتا ہے جو جسم کی نسبت سے وجود میں آتے ہیں۔ اسی سے وہ ان وسائل کا مالک بنتا ہے جو موجودہ مادی دنیا میں کسی جد وجہد کو کامیابی تک پہنچانے کے لئے ضروری ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار دعا فرما رہے تھے، اس دوران آپ کی زبان سے جو الفاظ نکلے ، ان میں یہ کلمہ بھی تھا : اللّٰھُمَّ اِنّی اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ (خدایا میں افلاس سے پناہ مانگتا ہوں) حضرت عائشہ نے متعجب ہو کر سوال کیا تو آپ نے فرمایا، ہاں اے عائشہ ۔ کیوں کہ افلاس آدمی کو کفر تک پہنچا دیتا ہے ۔ (کاد الفقر ان يكون كفرا) پانچ سو سال پہلے مسلمان دنیا کی اقتصادیات پر چھائے ہوئے تھے۔ مگر آج دہ اقتصادی قیام سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے دورِ جدید کی اقتصادیات کو نہیں سمجھا ، اس لئے وہ اس کے اندر اپنی جگہ بنانے میں بھی ناکام رہے۔ قدیم زمانہ میں معاشیات کا انحصار زمینی پیدا وار (زراعت اور باغبانی) پر تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں معاشیات کے معنی یکسر بدل گئے ہیں۔ آج معاشیات کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ صنعت و تجارت ہے۔ حتیٰ کہ خود زراعت بھی موجودہ زمانہ میں ایک صنعت ہو کر رہ گئی ہے۔ آج تمام چیزوں میں جدید ٹکنالوجی اتنا دخیل ہو گئی ہے کہ دولت کا بہاؤ بالکل فطری طور پر اسی گروہ کی طرف ہو جاتا ہے جو جدید ٹکنالوجی کا مالک ہو۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل ملی مسئلہ یہ ہے کہ وہ روایتی زراعت اور روایتی تجارت کے دور سے آگے نہ بڑھ سکے نتیجہ یہ ہے کہ آج ساری دنیا میں مسلمان معاشی اعتبار سے دوسرے درجہ کی قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ ممالک ہیں جو بعض قدرتی خزانوں کی بنا پر بغیر کسی ذاتی محنت کے مال دار ہو گئے ہیں۔ مثلاً خلیج فارس کے ممالک تیل کی وجہ سے۔ مسلمانوں کو اگر دورِ جدید میں زندہ رہنا ہے تو ناگزیر طور پر انھیں جدید اقتصادی تبدیلیوں کو سمجھ کر آج کی اقتصادیات میں اپنی جگہ بنانی پڑے گی۔ ورنہ وہ دوسری قوموں کے استحصال کا شکار ہوتے رہیں گے اور بالآخر آج کی دنیا میں اقتصادی اچھوت بن کر رہ جائیں گے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی جو بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، وہ تقریباً بلا استثناء اس غلطی کا شکار ہوگئیں کہ ہر ایک نے سیاسی انقلاب کو سب سے زیادہ اپنی توجہ کا مستحق سمجھا۔ حالاں کہ موجودہ زمانہ میں اقتصادیات نے جو وسعت اختیار کی ہے، اس کے بعد سیاست دوسرے درجہ پر چلی گئی ہے۔ آج سیاست بھی اسی کی ہے جس کے ہاتھ میں اقتصادیات ہو ۔ جس کے ہاتھ میں اقتصادی قو تیں نہ ہوں، اس کی کوئی سیاست بھی نہیں۔ قریبی زمانہ میں ہم نے سیاست کے اعتبار سے ہمالیائی شخصیات پیدا کی ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں وہ مقام حاصل نہیں جو ان عالی شان شخصیتوں کی نسبت سے ہمیں ملنا چاہئے تھا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہماری یہ شخصیات زمانہ کے فرق کو نہ سمجھ سکیں۔ ماضی پر قیاس کرتے ہوئے انھوں نے موجودہ زمانہ میں بھی سارا زور سیاست پر صرف کر ڈالا۔ مسلمانوں کی اقتصادی ترقی اور استحکام کے لئے انھوں نے کوئی حقیقی جد و جہد نہ کی۔ پھر موجودہ زمانہ میں اقتصادیات کا بہت گہرا تعلق جدید علوم سے ہو گیا ہے۔ کھیتی باڑی سے کر مشین چلانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page