Urdu book · اسلام

ملت کی تعمیر

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

تک ہر کام میں جدید علم درکار ہے۔ یہاں بھی مسلمانوں نے حیرت انگیز غفلت کا ثبوت دیا ہے۔ انھوں نے تعلیم اور اقتصادیات کے جدید رشتہ کو نہیں سمجھا اور نہایت انہماک کے ساتھ پوری ایک صدی تک روایتی علم پر قناعت کرتے رہے۔ اس اندوہناک غفلت کا نتیجہ بالآخر یہ ہوا کہ نسل ایسی تیار ہو گئی جو "عالم" ہوتے ہوئے اُس زمانہ کے اعتبار سے جاہل تھی جس میں اسے زندگی گزارنا تھا۔ ۲۔ دوسری چیز جو ملی تعمیر و استحکام کے اعتبار سے مطلوب ہے، وہ اتحاد ہے: وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ آپس میں نہ جھگڑو ورنہ کم ہمت ہو جاؤ گے اور تمھاری انفال - ۴۶ ہوا اکھڑ جائے گی۔ معلوم ہوا کہ اختلاف سے بزدلی پیدا ہوتی ہے اور قوم کی رعب ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ملت کے اندر باہمی اتحاد ہو تو ایک شخص اپنے کو کروڑوں انسانوں کے برابر سمجھے گا۔ اس سے لوگوں میں حوصلہ اور اعتماد پیدا ہوگا اور دیگر اقوام پر اہلِ اسلام کی دھاک قائم ہوگی۔ اتحاد کی اہمیت دین میں اتنی زیادہ ہے کہ مسجد کے اندر دینی باتوں کی دو مجلسیں بھی بیک وقت پسندیدہ نہیں: رائی ابن مسعود حلقتین فی مسجد الکوفۃ حضرت عبداللہ بن مسعود نے دو حلقے کوفہ کی مسجد میں فقام بینهما فقال: ایتکما کانت قبل صاحبتها، دیکھے تو ان دونوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور قالت احداهما عن، فقال للاخری: قوما دریافت کیا، دونوں میں سے کون پہلے جمع ہوا ہے ۔ اليها، فجعلهم واحدة ایک نے کہا، ہم لوگ، ابن مسعود نے دوسری جماعت سے کہا رواه الطبرانی فی الکبیر اٹھو اور اس سے مل جاؤ، پس دونوں کو ایک کر دیا۔ اتحاد کی اسی اہمیت کی بنا پر صحابہ نے پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد آپ کی تجہیز و تکفین پر خلافت کے انعقاد کو مقدم رکھا تھا ایک روایت میں آیا ہے: عن عبادة بن الصامت قال خرج النبی صلی عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم ليخبرنا بليلة القدر فتلاحی وسلم ایک روز نکلے کہ ہم کو شب قدر کے بارے میں بتا دیں رجلان من المسلمین فقال خرجت لاخبرکم کہ وہ کس روز ہے۔ اس وقت دو مسلمان ایک قرض کے بليلة القدر فتلاحی فلان وفلان فرفعت بارے میں) آپس میں لڑ پڑے۔ آپ نے فرمایا، میں اس مختصر تفسیر ابن کثیر، المجلد الثالث، صفحہ ۲۶۶ لئے نکلا تھا کہ تم کو شب قدر کی خبر دے دوں۔ مگر فلاں اور فلاں آپس میں لڑ پڑے پس اس کا علم اٹھا لیا گیا۔ ابن کثیر اس کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں "اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام باہمی جھگڑوں کو کس قدر برا سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے بڑی بڑی برکتیں اٹھالی جاتی ہیں۔" امت محمدی "کتاب محفوظ" کی حامل ہے۔ اس لئے کوئی اس کو مٹا نہیں سکتا۔ اسے اس وقت تک اس زمین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page