Urdu book · اسلام

ملت کی تعمیر

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

پر باقی رہنا ہے جب تک قرآن اس زمین پر باقی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بیرونی طاقت اسے کبھی کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اس کو جب بھی نقصان پہنچے گا، اپنی اندرونی غفلت سے پہنچے گا۔ اور اس غفلت میں باہمی اختلاف بلاشبہ سر فہرست ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے خطبہ میں فرمایا تھا: الا لا ترجعوا بعدی کفاراً یضرب بعضکم رقاب بعض الا ان الشیطان قد یئس ان یعبدہ المصلون ولكنہ فی التحر یش بینکم مسند احمد عن ابی حرۃ الرقاشی خبردار میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تمھارا بعض بعض کی گردنیں مارے۔ سن لو شیطان اس بات سے نا امید ہو گیا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں، لیکن وہ تمھارے درمیان ایک دوسرے کو برا نگیختہ کرے گا۔ تاریخ نے حیرت انگیز طور پر اس پیشین گوئی کی تصدیق کی ہے۔ تیرھویں صدی میں تاتاریوں کا سیلاب جس نے سارے عالم اسلام کو قتل و غارت گری کا قبرستان بنا ڈالا، کیوں کر پیش آیا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ سلطان صلاح الدین ایوبی (۱۱۹۳ء - ۱۱۷۳ء) نے مسیحی قوموں کو عبرتناک شکست دی تھی۔ اس واقعہ نے اہل اسلام کی فوجی اہمیت کی اتنی دھاک بٹھادی تھی کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند مشکل ہی سے اسلامی سلطنت کی طرف رخ کرنے کی جرات کر سکتا تھا۔ مگر صلاح الدین ایوبی کی وفات کے ہیں سال سے بھی کم عرصہ میں تاتاری اسلامی سلطنت پر حملہ کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ مکمل طور پر باہمی اختلاف تھا۔ اس حملہ کے وقت بغداد کی خلافت پر سلطان ناصر لدین اللہ (۱۲۲۵- ۱۱۸۰ء) تمکن تھا اور خراسان و ماوراء النہر کے علاقہ میں سلطان علاء الدین محمد بن خوارزم شاہ (۱۲۲۵ - ۱۱۲۰ء) کی حکومت تھی۔ خوارزم شاہ نے اپنے یہاں خلیفہ کا خطبہ موقوف کر دیا اور یہ منصوبہ بنایا کہ عراق پر حملہ کر کے اس کے ایک حصہ کو اپنی سلطنت میں ملالے۔ خلیفہ ناصر لدین اللہ کو اس کی خبر ہوئی تو اس کے توڑ کے کے لئے اس نے یہ کیا کہ تاتاریوں کو خفیہ خط بھیج دیا کہ وہ خوارزم شاہ پر حملہ کر دیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس طرح خوارزم شاہ خود اپنے دفاع میں مصروف ہو جائے گا اور عراق کی طرف رخ نہیں کرے گا۔ اس اختلاف سے فائدہ اٹھا کر تاتاریوں نے خوارزم شاہ پر حملہ کر کے اس کی سلطنت کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد چنگیز خاں (۱۲۲۷ء - ۶۱۱ھ) کی قیادت میں تاتاریوں کا ٹڈی دل ناصر لدین اللہ کی سلطنت کی طرف بڑھا اور اس کو اس سرے سے اس سرے تک روند ڈالا۔ اگر یہ باہمی اختلاف نہ ہوتا تو غیر متمدن تاتاری کبھی جرات نہیں کر سکتے تھے کہ وقت کی سب سے بڑی سلطنت پر حملہ آور ہو جائیں۔ اسپین کی مسلم حکومت (۱۴۹۲ء - ۷۱۱ء) کے ختم ہونے کی وجہ بھی باہمی اختلاف تھا۔ اسپینی مسلمانوں نے جس وقت مسیحی قوموں سے شکست کھائی، اس وقت وہ علم اور سائنس میں اپنے حریف سے بدرجہا بڑھے ہوئے تھے۔ اس کے با وجود ان کی شکست کی وجہ یہ تھی کہ عیسائی باہم متحد تھے۔ جب کہ مسلمان باہم ٹکڑوں میں بٹ گئے ۔ عمَال نے مرکزہ خلافت سے بغاوت کر کے اپنی چھوٹی چھوٹی خود مختار حکومتیں قائم کرلی تھیں۔ حتیٰ کہ ان میں کا ایک شخص اس سے بھی نہ شرمانہا تنہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page