Urdu book · اسلام

عبادت کے تقاضے

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

حیثیت میں ہو۔ محدود دائرہ اختیار رکھنے والے اہل ایمان کو یہ حکم ہی نہیں دیا گیا ہے کہ وہ سماجی اور ملکی پیمانہ پر دینی احکام کو نافذ کریں۔ احکام کی تعمیل ایک عملی مطالبہ ہے اور کوئی مطالبہ صرف انھیں لوگوں سے کیا جاسکتا ہے جو پہلے سے اس کا اقرار کرچکے ہوں اور اسی کے نقد رکھا جاسکتا ہے جتنا بالفعل ان کے لئے ممکن ہے۔ شریعت کا واضح اصول ہے کہ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعها (بقرہ - ۲۸۶) یعنی کسی کے اوپر اتنے ہی عمل کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے جتنا اس کے "وسع" میں ہو۔ وسع سے زیادہ کا مکلف ٹھہرانا اللہ کا طریقہ نہیں۔ پھر اہل ایمان کو ایسے احکام کا پابند کیوں نہ کیا جاسکتا ہے جن کی وہ تعمیل کرنے کی حیثیت میں نہ ہوں۔ اگر کوئی شخص احکام دین کی تفصیل پیش کر کے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اہل ایمان ہر حال میں اس بات کے مکلف ہیں کہ وہ اس پوری فہرست کو زمین پر نافذ کریں تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص زکوٰۃ کے قوانین کا حوالہ دے کر کہے کہ سرمایہ کی وہ تمام اقسام جن پر زکوٰۃ کی شرطیں منقین کی گئی ہیں، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوشش کرکے ان تمام مالیاتی مدوں کا مالک بنے تاکہ زکوٰۃ کے عنوان سے جو فرائض عائد کئے گئے ہیں، اپنی زندگی میں وہ ان سب کی تعمیل کر سکے۔ دین کے جو احکام ہیں، وہ شکل کے اعتبار سے تو سب کے سب یکساں ہیں، مگر ان احکام سے ہم کو جنسیت ہے وہ یکساں نہیں۔ قرآن کا ایک حکم ہے "نماز قائم کرو"۔ دوسرا حکم ہے "زکوٰۃ ادا کرو" دونوں حکم بظاہر یکساں ہیں اور دونوں امر کے صیغہ میں ہیں۔ مگر ہمارے ساتھ ان احکام کو جو نسبت ہے وہ دونوں میں یکساں نہیں۔ نماز کا حکم ایک مطلق حکم ہے جو ہر ہر مومن سے لازماً مطلوب ہے جب کہ زکوٰۃ کا حکم صاحب نصاب ہونے کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ جو شخص بقدرِ نصاب اموالِ زکوٰۃ کا مالک ہو، اس کے لئے تو یہ حکم اسی طرح قطعی حیثیت رکھتا ہے جس طرح نماز کا حکم۔ مگر جو شخص اموالِ زکوٰۃ کا مالک نہ ہو، اس سے نہ ادائیگی زکوٰۃ کا مطالبہ ہے اور نہ اس حکم کی حد تک یہ مطالبہ کہ وہ کوشش کرکے بقدرِ نصاب اموالِ زکوٰۃ کا مالک بنے تاکہ زکوٰۃ کے حکم کی تعمیل کر سکے۔ جو فریضہ بر وقت عائد ہورہا ہے، اس کے لئے سرگرم ہونا مطلوب ہو سکتا ہے۔ نہ یہ کہ جو فریضہ بر وقت عائد نہیں ہے اس کو وجود میں لانے کے لئے سرگرمی دکھائی جائے۔ معلوم ہوا کہ دین کے تفصیلی تقاضے مطلقا مشروط نہیں ہیں بلکہ حالات کی نسبت سے مشروع ہوتے ہیں۔ اہل ایمان کا دائرہ جس نسبت سے پھیلتا ہے، اسی نسبت سے دین کے تقاضے بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ جب تنہا ایک شخص مومن ہو تو اس پر دین کا اتنا ہی حصہ فرض ہوگا، جتنا اس کی ذات سے متعلق ہے۔ اس وقت اس کی اپنی ذات ہی وہ مقام ہوگی جہاں وہ ہدایات الہی کی تعمیل کرے گا۔ جب اہل ایمان ایک یا چند خاندان کی صورت اختیار کر لیں تو یہ خاندان اپنے دائرہ کے لحاظ سے اس کے مخاطب ہوں گے اور جب اہل ایمان کا کوئی گروہ ایک با اختیار معاشرہ کی حیثیت حاصل کر لے تو اس وقت پورے معاشرہ کا فرض ہوگا کہ خدا کی طرف سے اس کے معاشرتی معاملات کے لئے جتنے احکام دیئے گئے ہیں، وہ ان سب کی مکمل پابندی کرے اور چوں کہ معاشرہ کے پیمانہ پر عمل اقدار کے بغیر نہیں ہو سکتا ، اس لئے جب اہل ایمان کا کوئی معاشرہ اس حکم کا مخاطب ہو تو لازمی طور پر یہ مفہوم بھی اس میں شامل ہوگا کہ وہ اپنے اوپر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page