ملت کی تعمیر
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے والی عیسائی فوجوں سے جا ملے۔ اسپین میں مسلمانوں کی سیاسی شکست پندرہویں صدی کے آخر میں ہوئی جب کہ غرناطہ کے قلعہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا۔ پھر بھی ملک کو مسلمانوں سے خالی کرانے میں سو برس لگ گئے۔ ایک صدی کے اندر تین بار قتل عام کے باوجود مسلمانوں کا آخری قافلہ اسپین سے ۱۰۶۰ء میں نکلا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان وہاں کی اقتصادیات اور فنون پر چھائے ہوئے تھے۔ اس لئے سیاسی اقتدار کے خاتمہ کے باوجود مسلمانوں کو ملک بدر کرنا فوری طور پر ممکن نہ تھا۔ تاہم جب در اختلاف میں پڑے گے تو کوئی چیز ان کے کام نہ آسکی۔ محمد بن قاسم ۷۱۲ء میں ملتان کے راستہ سے موجودہ پاکستان میں داخل ہوا تو یہ محمود غزنوی اور بابر کی طرح کشور کشائی کا داخلہ نہ تھا، بلکہ دین رحمت کا داخلہ تھا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں وہ " نوشیرواں سے بھی زیادہ عادل اور رعایا پرور تھا"، چنانچہ صرف چند سال میں بحر عرب کے ساحل سے لے کر کشمیر تک اسلام پھیل گیا۔ مقامی باشندے اس کو اپنے لئے دیوتا سمجھنے لگے اور اس کے واپس جانے کے بعد اس کا ماتم کیا اور اس کا بت بنایا (نیا ربکی اہل الہند علی محمد دصور وہ بالکیرج ، بلاذری) مگر سلیمان بن عبد الملک (م ۹۹ھ) نے محض ایک ذاتی پر خاش کی بنا پر محمد بن قاسم کو معزول کر کے دمشق واپس بلایا اور اسے جیل میں بند کر دیا۔ جیل میں اس حال میں اس کا انتقال ہو گیا کہ اس کی زبان پر یہ شعر جاری تھا : اضاعونی وای فتی اضاعوا ليوم كريهة وسداد ثغر لوگوں نے مجھے ضائع کر دیا اور کیسے جوان کو ضائع کیا، وہ جو مصیبت کے دن کام آئے اور سرحدوں کو محفوظ رکھے ۔ محمد بن قاسم کے بعد اسلام کی پیش قدمی اس برصغیر میں تین سو برس کے لئے رک گئی اور دوبارہ شروع ہوئی تو وہ بھی سیاسی حوصلہ مندیوں کی پیش قدمی تھی ۔ بعد کے آنے والوں میں اسلام کی اشاعت کا وہ جذبہ ختم ہو چکا تھا جو محمد بن قاسم کے دل میں موجزن تھا۔ جواہر لال نہرو لکھتے ہیں : "عربوں کی سلطنت جو اتنی وسیع تھی اور جس کو عرب سے باہر پھیلنے میں بہ ظاہر کوئی دشواری پیش نہ آئی، ہندوستان میں سندھ سے آگے نہ بڑھ سکی ۔۔۔۔ سندھ کی فتح کے صدیوں بعد مسلمانوں نے شمالی ہند پر حملہ کیا ممکن ہے اس وقفہ کا ایک سبب عربوں کی اندرونی دشواریاں ہوں۔ کیوں کہ سندھ (محمد بن قاسم کے بعد) بغداد کی مرکزی طاقت سے الگ ہو کر ایک چھوٹی سی آزاد بن چکا تھا" (Small independent Muslim state) مسلم ریاست Discovery of India, p. 240 بعد کی تاریخ میں مسلمانوں کی تمام ناکامیوں کے پیچھے اسی قسم کے اختلافی واقعات ملتے ہیں ۔ قرآن میں ہے کہ اہل ایمان باہم ایک دوسرے کے اولیار (دوست) ہیں ۔ اسی طرح اہل کفر ایک دوسرے کے اولیار ہیں ۔ (انفال ۷۲ - ۷۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی طبائع میں فطری اختلاف کے باوجود ، اگر کوئی شخص اپنے ارادہ میں سنجیدہ ہے تو وہ اپنے ابنائے جنس کے درمیان اشتراک کے اسباب تلاش کر لیتا ہے۔ کیونکہ اشتراک کے بغیر،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader