Urdu book · اسلام

ملت کی تعمیر

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں، کسی قسم کی کوئی کامیابی ممکن نہیں۔ مقصد کے ساتھ اخلاص اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اختلاف کے پہلو کو نظر انداز کر کے اپنے ہم جنسوں سے مل جائے۔ اہل کفر، خواہ ان کے درمیان کتنا ہی فرق و اختلاف ہو، اپنے درمیان کہیں نہ کہیں نقطہ اشتراک ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اسی طرح اہل ایمان، فطری اختلاف کے باوجود اجتماعی زندگی میں بہر حال وہ مقام پا لیتے ہیں جہاں وہ اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ متحد ہو سکیں۔ اس کے خلاف صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ دلوں۔ سے خیر بالکل نکل گیا ہو۔ (انفال ۔ ۶۰) ۳۔ اس سلسلہ کی تیسری چیز وہ ہے جو مندرجہ ذیل آیت سے اخذ ہوتی ہے: اور مہیا رکھو ان کے لیے جتنا ہو سکے قوت اور گھوڑے داد علہم ما استطعتم من قوة و من رباط کہ اس سے دھاک پڑے گی اللہ کے اور تمھارے الخیل ترهبون به عدو الله وعد دکتم دشمنوں پر۔ (انفال ۔ ۶۰) ہماری دنیا میں اس ’’قوتِ حربیہ‘‘ کی اہمیت کیا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مصر کے سلطان صلاح الدین (۱۹۳۱ء - ۱۱۷۳ء) اور ہندوستان کے سلطان ٹیپو (۱۷۹۹ء - ۱۷۵۱ء) دونوں جوش ایمان اور شجاعت اور جنگی اہلیت کے اعتبار سے یکساں حیثیت کے مالک تھے۔ دونوں کو ’’مغربی طاقت‘‘ سے مقابلہ پیش آیا۔ مگر اول الذکر فلسطین کا فاتح بنا جب کہ دوسرے کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ حریف سے شکست کھا کر شہید ہو جائے۔ اس فرق کے پیچھے کوئی طلسماتی راز نہیں، ایک سادہ سی حقیقت ہے: سلطان ٹیپو کو اٹھارویں صدی کا زمانہ ملا جب کہ جنگی صنعت میں مغرب نے اجارہ داری حاصل کر لی تھی۔ اس نے روایتی دستی ہتھیاروں کی جگہ بہتر قسم کے دور مار ہتھیار دریافت کر لئے تھے اور سمندری طاقت پر مکمل طور پر اپنا قبضہ قائم کر لیا تھا۔ اس کے برعکس سلطان صلاح الدین کو بارھویں صدی عیسوی میں کام کرنے کا موقع ملا جب کہ مسلمان جنگی صنعت میں دنیا کی امامت کر رہے تھے۔ اس زمانے میں شام و مصر اور عراق میں کثرت سے ایسی کارگاہیں تھیں جہاں اس وقت کی دنیا کے سب سے بہتر آلات حرب تیار ہوتے تھے۔ عباسی دور میں رومی حملوں کی مدافعت اور صلیبی جنگوں کے دور میں یورپی قوموں کی یورشیں روکنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ خاص طور پر صلیبی جنگوں کے زمانے میں اس علاقے میں جنگی صنعت کو بڑا فروغ ہوا، حتیٰ کہ صلیبی لڑائیوں کے دور میں جب کوئی صلح کا وقفہ ہوتا تو اہل یورپ خاص طور پر ہتھیار خریدنے کے لئے شام و مصر کے بازاروں میں آتے تھے۔ چنانچہ اس زمانے میں مسلم علماء کو فتویٰ دینا پڑا کہ مسیحیوں کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے، کیونکہ ہم سے خریدے ہوئے ہتھیاروں کو وہ دوبارہ ہمارے ہی خلاف استعمال کریں گے۔ (دکتور مصطفی السباعی من روائع حضارتنا) یہی وہ قوت ہے جس کو قرآن میں قوتِ حربیہ (انفال ۔ ۶۰) کہا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس کو اس حد تک خاص کرو کہ دوسروں کے اوپر تمھارا رعب قائم ہو جائے۔ قوتِ حربیہ کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ جو تمام مسلمانوں سے متعلق ہے اور ہر مسلم گروہ اپنی بساط کے مطابق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page