Urdu book · اسلام

ملت کی تعمیر

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے حصول کی جدوجہد کر سکتا ہے۔ دوسرے وہ جس کا تعلق صرف اس مسلم معاشرہ سے ہے جو با اقتدار ہو۔ موجودہ زمانے میں ان دونوں قوتوں کے معنی کیا ہیں اور ان کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے، اس کی وضاحت کے لئے ہم جاپان اور روس کی مثال دیں گے۔ دوسری جنگ عظیم (۱۹۴۴۔ ۱۹۳۹) میں جب جاپان کو شکست ہوئی اور اس کو غیر مسلح کر کے امریکی فوجوں نے جاپان پر قبضہ کر لیا۔ تو جاپان کے لئے عسکری اور سیاسی عزائم کے دروازے بند ہو گئے۔ اس موقع پر شہنشاہ جاپان ہیروہٹو (۱۹۰۱) نے تقریر کی اور کہا کہ ” ہمیں ایک ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے، تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں“۔ اب پورا جاپان غیر سیاسی میدانوں میں ترقی کی راہ پر لگ گیا۔ انہوں نے اپنے ماسٹروں کو منسٹروں کی تنخواہ اور مجسٹریٹوں کے اختیارات دے دیئے تاکہ تعلیم کے معیار کو انتہائی حد تک بلند کر سکیں۔ صحافت کو اتنی ترقی دی کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ چھپنے والا اخبار جاپانی اخبار ہے۔ سائنس اور صنعت میں اتنا زیادہ کمال پیدا کیا کہ لوہا نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کی سب سے بڑی مشین ( سپر ٹینکر) بناتے ہیں۔ انھوں نے اپنی مصنوعات کو کوالٹی کے اعتبار سے اتنا بلند کیا کہ اس کو نقص بدرجہ صفر Zero Defects کے مقام تک پہنچا دیا۔ قومی احساس اور نظم و ضبط میں اتنی ترقی کی کہ آج دنیا کی کوئی قوم اس معاملہ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہ ترقیاں اگر چہ بنطاہر غیر عسکری اور غیر سیاسی تھیں۔ مگر وہ اتنی طاقت ور ثابت ہوئیں کہ اس کے بعد کسی مقابلہ کے بغیر امریکہ نے جاپان کی سرزمین سے اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا۔ تعمیر و ترقی کا یہ میدان، اپنی بساط کے مطابق، ہر مسلمان گروہ کے لئے کھلا ہوا ہے خواہ وہ اقلیت میں ہو یا اکثریت میں۔ بے اقتدار ہو یا با اقتدار۔ اسی ترقی کی بدولت افریقہ کے متعدد ملکوں میں یہ حال ہے کہ ملک کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر عملاً سیاست اور دوسرے اجتماعی شعبوں پر عیسائی قبضہ کئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ علم و سائنس، صنعت و حرفت اور نظم و ضبط میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر نائیجریا کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ۷۵ فی صد ہے اور عیسائیوں کی صرف ۲۰ فی صد۔ مگر ۱۹۷۴ء میں وہاں کی پندرہ رکنی کابینہ میں ۵ مسلم وزیر تھے اور ۱۰۔ عیسائی وزیر۔ اس فرق کی وجہ تعلیم میں عیسائیوں کی برتری اور مسلمانوں کی پس ماندگی ہے۔ سرکاری مدارس میں مسلم طلبہ کی تعداد ۷۵ فی صد سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اعلیٰ مراحل کی تعلیم میں یہ تناسب اور بھی کم ہو جاتا ہے جب کہ عیسائی طلبہ ملک میں ملیس فی صد ہونے کے باوجود تعلیمی اداروں میں بھرے ہوتے ہیں۔ دوسری نوعیت کی ایک مثال روس ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے اپنے حریف سوویت روس کے خلاف یہ اسکیم بنائی کہ وہ اس کے سرحدی ملکوں سے معاہدے کر کے وہاں اپنے فوجی اڈے قائم کرے اور اس کو اپنے گھیرے میں لے لے۔ ناٹو (Nato) سیٹو (Eato) اور سنٹو (Cento) سی قسم کے معاہدے تھے جن کے ذریعے امریکہ نے اپنی جنگی مشین کو اٹلانٹک پار کر کے یورپ، شمالی افریقہ اور ایشیا تک پہنچا دیا، اس طرح اپنے دو درجن فوجی اڈوں کے ذریعے وہ اس پوزیشن میں ہو گیا کہ کمیونسٹ دنیا کو عین اس کی سرحدوں کے پاس نشانہ بنا سکے۔ اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page