ملت کی تعمیر
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلب یہ تھا کہ روس کو تو اپنے دشمن پر وار کرنے کے لئے زمین کے گولے کی ایک چوتھائی مسافت طے کرنی ہوگی۔ جب کہ امریکی اڈے اس کی سرحد کے اتنے قریب ہیں کہ ز دپا پانچ سے دس منٹ کے اندر سوویت روس کے تمام اہم ترین نشانوں پر پہنچ سکتے ہیں ۔ اب روس نے یہ کیا کہ سائنس دانوں کی ایک فوج اس کام پر مامور کر دی کہ وہ ایسا تیز رفتار ہتھیار دریافت کریں جس کے ذریعہ ماسکو کے حکمراں اپنے ملک میں بیٹھے بیٹھے امریکہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتے ہوں ۔ ستمبر 1959 میں روسی راکٹ لیونک نمبر ۲ کا ٹھیک اندازہ کے مطابق چاند پر پہنچنا اس بات کا خاموش اعلان تھا کہ تحقیق کامیاب ہو گئی ہے ۔ زمین سے چاند کا فاصلہ روس سے امریکہ کے فاصلے کے مقابلہ میں پچاس گنا زیادہ ہے۔ اب جو تیز رفتار راکٹ مشینوں کا بکس چاند پر پہنچ سکتا ہے ، وہ بم کے گولے بھی دور دراز ملکوں میں گرا سکتا ہے ۔ ریڈیائی کنٹرول کی جس اہلیت کا مظاہرہ خلائی پرواز میں ہوا ، وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھا کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بعید ترین زمینی نشانوں پر نہایت صحت کے ساتھ گرائے جا سکتے ہیں ۔ اس دریافت کا سامنے آنا تھا کہ امریکہ کی فوجی حکمت عملی اچانک بے بنیاد عمارت کی طرح زمین پر آگئی ۔ روس کو زمینی چیلنج دیا گیا تھا۔ اس نے اس کا آسمانی حل دریافت کر لیا معلوم ہوا کہ اس دنیا میں ترقی کی کوئی آخری حد نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے طاقت وقوت کے بے پناہ ، مکانات رکھ دیئے ہیں اور حوصلہ اور ہمت ہو تو ہر مشکل کا ایسا بالا تر حل دریافت کیا جا سکتا ہے کہ دشمن کی ساری کارروائیاں بطل ما كانوا يعملون (اعراف - ۱۱۸) کا مصداق ہو کر رہ جائیں ۔ اگرچہ اس دنیا میں اہل ایمان کا اصل مشن دعوت و تبلیغ ہے۔ مگر یہ واقعہ کہ یہ دنیا ایک مادی دنیا ہے اور یہ واقعہ کہ یہاں ہمیشہ حق کی مخالفت کرنے والے گروہ موجود رہتے ہیں ، اہل ایمان کے لئے ضروری کر دیتا ہے کہ وہ مادی اسباب کی فراہمی میں بقدر وسع پوری جدوجہد کریں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے ۱۳ ویں سال مکہ سے انتہائی بے سرو سامانی کے ساتھ ہجرت کی۔ مگر اس کے دس برس بعد جب آپ نے فتح مکہ کے لئے مارچ کیا تو ایک طرف تبلیغی کام اس حد تک پھیل چکا تھا کہ دس ہزار مردان کار آپ کے ہمرکاب تھے ۔ دوسری طرف نیاری کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے دو ہزار آدمی اس طرح زرہ پوش تھے کہ ان کی صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں (لا یری منهم سوی الحدق ، طبرانی) موجودہ زمانے میں اس سنت پر عمل کرنے کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ شدید ہو گئی ہے ۔ آج کی جنگوں میں عضلاتی طاقت کے بجائے مشین کی اہمیت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ فوجی نسلوں (Martial Races) کا قدیم تصور زمانہ ماضی کا افسانہ بن گیا ہے ۔ اسی طرح اقتصادی ذرائع نے موجودہ زمانہ میں اس قدر وسعت اختیار کی ہے کہ پوری انسانی زندگی اس کے تابع ہو گئی ہے ۔ قدیم زمانہ میں دعوت و تبلیغ کا کوئی براہ راست تعلق اقتصادیات سے نہ تھا مگر آج اگر آپ ”قلم“ کو دعوت و تبلیغ کے لئے استعمال کرنا چاہیں تو عظیم اقتصادی وسائل کے بغیر اس کو مؤثر طور پر استعمال ہی نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader