دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت الی اللہ دعوتی کام کی اہمیت تاریخ کا کوئی بھی حادثہ، چاہے وہ کتنا ہی سنگین ہو، ملت اسلامیہ کے وجود کو مٹا نہیں سکتا۔ کیوں کہ دنیا میں ملت اسلامیہ کا وجود حفاظت قرآن کے وعدہ الہی (حجر۔ 9) کا ایک جزو ہے۔ جس طرح خدا کی آخری کتاب کو قیامت تک باقی رہنا ہے، اسی طرح خدا کی آخری کتاب کے حاملین بھی یقینی طور پر اس وقت تک باقی رہیں گے جب تک زمین و آسمان کی بساط لپیٹ نہ دی جائے اور خدا کے انصاف کا تراز و کھڑا نہ ہو جائے۔ مگر مالک کائنات کے اس وعدے کا تعلق دنیا میں امت محمدی کے وجود سے ہے۔ آخرت میں اس کی نجات سے نہیں ہے۔ آخرت کی نجات کا انحصار تمام تر صرف آدمی کے اپنے عمل کے اوپر ہے۔ اس معاملہ میں خدا کا قانون اتنا بے لچک ہے کہ پیغمبر کی امت تو درکنار، پیغمبر کی بیوی اور پیغمبر کی اولاد بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔ ’’عمل‘‘ سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنی ان دو حیثیتوں کے تقاضے پورے کریں جو اس دنیا میں ہمیں حاصل ہیں۔ ہماری ایک حیثیت یہ ہے کہ ہم خدا کے بندے ہیں۔ ہماری دوسری حیثیت یہ ہے کہ ہم آخری رسول کے امتی ہیں۔ پہلی حیثیت کے اعتبار سے ہر مسلمان سے فرداً فرداً یہ مطلوب ہے کہ وہ ذاتی طور پر ’’عبد صالح‘‘ بن جائے۔ وہ اپنی ذات سے خدا کی بندگی کا ثبوت دے۔ مگر آخری رسول کا امتی ہونا اسی کے ساتھ ہمارے اوپر ایک اور لازمی فریضہ عائد کرتا ہے ۔— یہ کہ ہم دنیا والوں کو پیغام رسالت پہنچانے کے لئے رسول خدا کی قائم مقامی کریں : فرضت عليهم الفرائض التي افترضت علی اللہ تعالیٰ نے فرمایا : امت محمدی پر میں نے وہ فرائض الانبیاء والرسل (وہب بن منبہ) عائد کئے ہیں جو میں نے نبیوں اور رسولوں پر عائد کئے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سارے عالم کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کے ماننے والے آپ کی تبعیت میں ان قوموں کی طرف مبعوث ہیں جن کے درمیان وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ آپ کی بعثت عامہ تمام اہل دنیا کی طرف، آپ کی وفات کے بعد، آپ کی امت ہی کے واسطہ سے ہے۔ حضرت مسعود بن مخرمہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس آئے اور فرمایا : ان اللہ بعثنى رحمة للناس كافة فادعوتنی تہذیب سیرۃ ابن ہشام، جلد ۲، صفحه ۱۴۱ بے شک اللہ نے مجھ کو سارے لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے لوگوں تک پہنچا دو۔ رستم نے ربعی بن عامر رض سے پوچھا کہ تم لوگ ہمارے ملک میں کیوں آئے ہو۔ انھوں نے جواب دیا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader