Urdu book · اسلام

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ ابتعثنا والله جاء بنا لنخرج من شاء من اللہ نے ہمیں مبعوث کیا ہے اور وہ ہم کو لایا ہے تاکہ عبادۃ العباد الى عبادۃ الله ومن ضيق الدنيا وہ جیسے چاہے اس کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا الى سعتها ومن جور الأديان الى عدل الاسلام کی عبادت کی طرف لائیں اور دنیا کی تنگی سے اس کی وسعت (تاریخ طبری، جلد ۳، صفحه ۳۳ ) کی طرف اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف۔ اس پیام رسانی کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے لئے ہر دوسرا مفاد قربان کیا جا سکتا ہے۔ ہجرت کے چھٹے سال ( ۶۲۸) آپ نے مکہ والوں سے حدیبیہ کا جو معاہدہ کیا، اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مکہ کے لوگوں میں سے جو شخص تجارت کے لئے مصر، شام، عراق جاتے ہوئے مدینہ سے گزرے گا اس کی جان و مال محفوظ رہے گی (بخاری ومسلم) گویا آپ نے اسلام کے دشمنوں کو خود اسلامی حدود کے اندر تجارتی سرگرمیوں کی کھلی اجازت دے گی۔ یہ اور اس طرح کی دوسری دفعات اس لئے تھیں کہ ان کو اقتصادی اور سیاسی رعایت دے کر اپنے لئے دعوتی کام کا میدان ہموار کیا جائے۔ اگر ہم اپنے گرد و پیش بسنے والوں کو آنے والے دن سے آگاہ نہ کریں تو ہمارے لئے بحیثیت امت ٹھیک اسی گرفت کا اندیشہ ہے جو کسی نبی کے لئے اس وقت تھا جب کہ وہ اس قوم کو خدا کا پیغام نہ پہنچائے جس کی طرف وہ بھیجا گیا ہے۔ اپنی قوم کو شرک و کفر میں چھوڑ کر نبی کا " نماز روزہ " بھی خدا کے یہاں قبول نہ تھا۔ پھر ہمارے لئے صرف ذاتی عمل کس طرح کافی ہو سکتا ہے جب کہ ہمارے گرد و پیش کر دار وں آدمی اس حال میں پڑے ہوں کہ انہیں یہ بتایا ہی نہ گیا ہو کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور انہیں اپنی حقیقی کامیابی کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ پیغمبر دنیا میں اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کرے تو اس کے لئے خدا کی طرف سے دہری گرفت کا خطرہ تھا ( اذاً لا ذقنات ضعف الحیوة وضعف المماتا ، بنی اسرائیل - (۵) اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر پر بیک وقت دو چیزوں کی ذمہ داری تھی ایک خود مومن و مسلم بننا (یونس - (۷۲) دوسرے اہل عالم کو خدا کا پیغام پہنچانا (مائدہ - (۶۷) ختم نبوت کے بعد امت محمدی مقام نبوت پر ہے۔ اس لئے اس کے اوپر بھی اللہ کی طرف سے بیک وقت دو ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں۔ ایک باعتبار ایمان، دوسری باعتبار اجتباء (حج۔ آخر) اجتباء کے معنی ہیں چن لینا۔ اللہ تعالیٰ نے امت محمدی کو اس کام کے لئے چن لیا ہے کہ وہ دنیا والوں تک ان کے رب کا پیغام پہنچادے۔ اب اس کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایمانی زندگی کو پورے طور پر اختیار کرے۔ اسی کے ساتھ دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان حق کی گواہ بن کر کھڑی ہو۔ دعوت الی اللہ جس طرح نبی کی ذمہ داری ہے اسی طرح نبی کے متبعین کی بھی ذمہ داری ہے (ادعوا الى الله علی بصيرة انا ومن اتبعنى، یوسف (۱۰۸) حدیث میں ارشاد ہوا ہے : انتم شهد اء الله في الارض تم لوگ دنیا میں خدا کے گواہ ہو جیسا کہ معلوم ہے ، انسان مرنے کے بعد ختم نہیں ہوتا ، بلکہ دوسری طویل تر زندگی میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔ وہاں یا تو دائمی جنت ہے یا دائمی جہنم ۔ یہ ایک انتہائی سنگین صورت حال ہے۔ کیوں کہ اگر کوئی شخص موجودہ زندگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page