Urdu book · اسلام

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

میں خدا کی مرضی سے بے خبر رہ جائے اور اس حال میں مر جائے کہ وہ خدا کی مرضی پر نہ چلا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد اچانک ایک لامحدود عذاب میں پھنس جائے گا جس سے دوبارہ نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہوگی۔ عام اہل دنیا کے نقطہ نظر سے خواہ جس چیز کی بھی اہمیت ہو مگر خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اہم بات یہی ہے جس سے انسان کو باخبر ہونا چاہئے۔ انسان کو اس ہیبت ناک خطرے سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ انسان کو پیدا کرنے کے ساتھ پیغمبروں کا سلسلہ بھی شروع فرما دیا۔ ہر قریہ “ اور ہر قوم “ میں خدا کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے اور اتنی کثرت سے آئے کہ ان کا تانتا بندھ گیا (مومون ۔ ۱۲۷) چوں کہ رسولوں کو بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ خدا کے اور پرندوں کی حجت باقی نہ رہے (نساء - ۱۶۵) اس لئے خدا کے یہاں رسولوں کی سرئروئی کے لئے صرف یہ کافی نہ تھا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں احکام الہی کی اطاعت کر لیں، بلکہ ان کے لئے لازمی طور پر یہ بھی ضروری تھا کہ وہ خدا کے پیغام سے خدا کے بندوں کو آخر حد تک باخبر کر دیں۔ سیدنا یونس علیہ السلام نے نینوا (عراق) کی ایک سو ہزار آبادی تک خدا کا پیغام پہنچایا۔ مگر ان سے صرف اتنی لغزش ہو گئی کہ پیغام پہنچانے کے کام کو آخری حد تک مکمل کرنے سے پہلے قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ بات خدا کی نظر میں اتنی سنگین تھی کہ آپ کو مچھلی نے نگل لیا اور اس سے صرف اس وقت رہائی ملی جب آپ کو احساس ہو گیا کہ مجھے قوم کی طرف دوبارہ واپس جانا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول کی رسالت کا تحقق اس کے بغیر نہیں ہوتا کہ وہ پیغام پہنچانے کے فرض کو پوری طرح انجام دے (مائدہ - ۶۷) - اسی طرح رسول کی امت کا رسول کی امت ہونا بھی اسی وقت متحقق ہو گا جب کہ وہ اس ذمہ داری میں آپ کی قائم مقام بن کر اہل عالم کو وہ خداوندی پیغام پہنچادے جو آپ خدا کی طرف سے لے کر آئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کی جو ذمہ داری ہے، وہی نبی کی امت کی ذمہ داری بھی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نبی بحیثیت فرد کے ذمہ دار ہوتا ہے اور امت بحیثیت جماعت کے۔ نبی کو ذاتی طور پر دعوت کی ذمہ داریوں کو اٹھانا ہوتا ہے۔ جب کہ امت کے ہر فرد کے لئے یہ ضروری نہیں۔ اگر اس کے اندر سے ایک جماعت اٹھ کر دعوت حق کے فریضہ کو ادا کر دے تو بقیہ لوگوں سے، فرضی کی حد تک، یہ ذمہ داری ساقط ہو جائے گی : وماكان المومنون لينفر واكافة، فلولا نفس یہ ممکن نہیں کہ مسلمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں، پھر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين کیوں نہ ہر فرقے سے ایک جماعت نکلے، تاکہ دین میں سمجھ پیدا ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم (توبہ - ۱۲۲) کریں اور واپس جاکر اپنی قوم کو ڈرائیں۔ نبی کی تبعیت میں اقوام عالم کے سامنے حق کی گواہی دینے کی یہ ذمہ داری صریح نص سے ثابت ہے : وكذلك جعلناكم امة وسطا لتكونوا شهد اء على اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم لوگوں پر الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا (البقره ۱۴۳ ج ۷۸) گواہی دینے والے بنو اور رسول تمھارے اوپر گواہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page