Urdu book · اسلام

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

قیامت میں جب تمام انسان خدا کی عدالت میں حاضر ہوں گے تو ان کے اوپر وہ لوگ خدائی گواہ کی حیثیت سے کھڑے کئے جائیں گے جنہوں نے دنیا میں ان کو خدا کا پیغام پہنچایا تھا۔ بائبل میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے : " تمام قومیں فراہم کی جائیں اور سب امتیں جمع ہوں۔ ان کے درمیان کون ہے جو اسے بیان کرے یا ہم کو پچھلی باتیں بتائے۔ وہ اپنے کو گواہوں کو لائیں تاکہ وہ سچے ثابت ہوں اور لوگ سنیں اور کہیں کہ یہ سچ ہے۔ خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اور میرے خادم بھی، جیسے میں نے برگزیدہ کیا تا کہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کہ میں وہی ہوں اور میں ہی یہوداہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ سو تم میرے گواہ ہو " یسعیاہ ب ۴۳ ، آیت ۱- ۱۲ شہادت کی اس ذمہ داری کی ادائیگی میں رسول کے انہماک کا عالم یہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا : لعلک باخع نفسک ان لا يكونوا مومنین شعراء ۳- شاید تم اپنے کو ہلاک کر ڈالو گے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔ اسی طرح اگر مسلمانوں کو یہ احساس ہو کہ ختم رسالت کے بعد ان کو ٹھیک اسی مقام رسالت پر کھڑا کیا گیا ہے جہاں نبی کو اپنی زندگی میں کھڑا ہونا پڑا تھا ، تو ان کی راتوں کی نیند اڑ جائے اور دن کا چین ان کے لئے حرام ہو جائے۔ کیوں کہ اس تقرر کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان یا تو اقوام عالم کے سامنے حق کی گواہی دے کر بری الذمہ ہوں یا خدا کے یہاں اس جرم میں پکڑے جائیں کہ انھوں نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ان کا خدا ان کے ساتھ آئندہ زندگی میں کیا کرنے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اگر اس حق کا اعلان نہ کریں جو خلق خدا کی بھلائی کے لئے ان کے پاس بھیجا گیا ہے تو اندیشہ ہے کہ ان پر قرآن کا وہ حکم صادق نہ آ جائے جو سابق اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوا ہے : ان الذين يكتمون ما انزلنا من البينَات والهدىٰ جو لوگ چھپاتے ہیں اس کو جو ہم نے آمار صاف حکم اور راہ من بعد ما بينا ہ لناس في الكتاب اولئك يلعنهم کے نشان ، بعد اس کے کہ ہم اس کو کھول چکے کتاب میں ، اللہ ويلعنهم اللعنون - الا الذين تابوا و اصلحوا ان پر لعنت ہے اللہ کی اور دوسروں کی۔ سوا ان وبينوا اولئك اتوب عليهم وانا التواب الرحيم لوگوں کے جو اپنی اس روش سے باز آئیں، اپنی اصلاح بقرہ ۴۰ - ۱۵۹ کریں اور امر حق کو بیان کریں تو میں ان کو معاف کرتا ہوں اور میں معاف کرنے والا مہربان ہوں ۔ اگر خدا کی مرضی اس کے سوا کسی چیز کا نام نہیں ہے جو اس نے اپنی کتاب میں ظاہر کی ہے ، تو پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان جب تک ذاتی طور پر توبہ اور اصلاح کے ساتھ " تبئین " کا فریضہ انجام نہیں دیتے، یعنی خدا کے دین کو غیر مسلموں تک پہنچانے کی کوشش نہیں کرتے، ملکی سطح پر اپنے ہم وطنوں تک اور عالمی سطح پر سارے باشندگانِ ارض تک ، وہ کسی بھی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے، خواہ وہ چلے پر چلتے دے رہے ہوں اور خواہ ان کی اشراق اور چاشت کی نمازیں کبھی ناغہ نہ ہوتی ہوں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ جنت کا راستہ بندگانِ خدا سے پسے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page