Urdu book · اسلام

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی خلا میں روحانی سیر سے گزرتا ہے تو وہ سخت ترین غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے لئے جنت کا دروازہ اس وقت تک کھل نہیں سکتا جب تک ہم نے اپنے گرد پیش بسنے والے کروڑوں غیرمسلموں کے لئے جہنم کا دروازہ بند کرنے کی کوشش نہ کی ہو، خواہ اس کوشش میں ہمارے ساتھ وہ کچھ گزر جائے جو ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اوپر گزرے : ام حسبتم ان تدخلوا الجنة ولما ياتکم مثل کیا تم سمجھتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔ حالانکہ الذین خلوا من قبلکم مستهم الباساء والضراء ابھی تم پر وہ حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے کے لوگوں وزلزلوا حتی یقول الرسول والذین امنوامعه پر گزری تھی ۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا متی نصر الله الا ان نصر الله قریب مارے گئے ۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور ان کے ساتھی بقرہ ۔ ۲۱۴ پکار اٹھے ، اللہ کی مدد کب آئے گی ۔ یاد رکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے ۔ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے کہا گیا ہے کہ ” مجھ پر یہ کتاب اتاری گئی ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے اہل عرب کو آگاہ کر دوں اور میرے بعد جن قوموں تک یہ کتاب پہنچے (لاند کم به ومن بلغ ، انعام - ۱۹) دنیا کی زندگی میں جو لوگ قوموں کو آنے والے دن سے آگاہ کریں گے وہ قیامت کے دن ان کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بنا کر کھڑے کئے جائیں گے ۔ (یوم یقوم الاشهاد، غافر - ۵۱) اب سوال یہ ہے کہ آج کون ہے جو دنیا کی قوموں کے سامنے گواہ بن کر کھڑا ہے اور آخرت میں وہ پیغمبر آخر الزماں کی نیابت میں خدا کی عدالت میں گواہی دے کہ ان قوموں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کر دیا گیا تھا کیا سارے عالم اسلام میں کسی بھی گروہ کا نام لیا جا سکتا ہے جو دنیا کی قوموں کو یہ چیتاونی دے رہا ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو کیا نعوذ بالله پیغمبر آخر الزماں کی پیغمبری کا دور ختم ہو گیا ۔ کیا اب قیامت آنے والی نہیں ہے ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے بعد کی قوموں کے لئے اس سنت کو منسوخ کر دیا ہے کہ وہ ان پر اپنے گواہ کھڑے کرے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرے ۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مسجدوں کے میناروں سے اذان کی گونج بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہے۔ یہ نہ صرف بدترین قسم کی غلط فہمی ہے بلکہ اس قسم کے جوابات پر مطمئن ہونا اپنے بوجھ میں اضافہ کے ہم معنی ہے ۔ خدا کا ارشاد تو یہ ہے کہ کسی قوم کے پاس جو آگاہ کرنے والا آتا ہے ، وہ اس کی اپنی زبان میں آتا ہے (وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبيين لهم ، ابراهيم - (۴) وہ اپنے پیغام کو اتنا کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ لوگ پکار اٹھتے ہیں کہ تم نے پڑھ کر سنا دیا (دیقولوا درست ، انعام - ۱۰۵) اور ہم یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ قوم کی زبان خواہ کچھ ہو ، اذان کے چند الفاظ فضا میں بکھیر کر ہم خدا کے سامنے ان کے حق میں بری الذمہ ہو جائیں گے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page