عبادت کے تقاضے
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سیاسی امیر مقرر کریں اور اس کے ماتحت اجتماعی زندگی بنا کر تمام شرعی قوانین کا اجراء عمل میں لائیں۔ اسلام کے تمام احکام کسی نفسیاتی حقیقت کا ظہور ہیں۔ جب ایمان دل کے اندر جاگزیں ہو جائے تو نفسیاتی انسانی میں اس کے اثرات کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ البتہ ان اثرات کا خارجی ظہور اسی کے بقدر ہوتا ہے جتنا خارجی حالات اس کا موقع دے رہے ہوں۔ اہل ایمان کے باہمی تعلق کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس کے مدارج کی تقسیم اگر چہ ممکن نہیں۔ تاہم سمجھنے کے لئے اس کو تین بڑے مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ تلقین کا مرحلہ ہے اور اس کی جڑ یہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں دوسرے مسلمان کے لئے اخلاص و خیر خواہی ہو (النصح لكل مسلم، متفق علیہ) بائبل کے الفاظ میں وہ اپنے بھائی کا رکھوالا بن جائے (پیدائش ۴: ۹) آتی جریر رضی الله عنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: حضرت جریر بن عبد الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے مديدك يا جرير، فقال على مه، قال ان تسلم فرمایا ، اے جریر ہاتھ ڈھیلا رکھو۔ جریر نے کہا کس چیز پر۔ وجہك لله والنصيحة لكل مسلم آپ نے فرمایا: اپنا چہرہ اللہ کے حوالے کر دو اور ہر کنز العمال ج 1 ص ۸۲ مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرو یعنی باہمی معاملات میں ایسا رویہ اختیار کرو جو تمھارے بھائی کی دنیا و آخرت کے لئے مفید ہو اور ایسی ہر کارروائی سے بچنے کے متعلق اندیشہ ہو کہ وہ اسلامی برادری کے درمیان انتشار و اختلاف پیدا کرنے کا باعث ہوگی۔ یہی وہ عمل ہے جس کو کی سورہ العصر میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی نسبت سے بندۂ مومن کے اندر ظاہر ہونے والے جذبہ عبودیت کو ” باہم حق و صبر کی نصیحت‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس ایمانی تقاضے کے دو اہم پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ اس عمل کا ایک رخ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جو کچھ چاہتا ہے، اس کی طرف ہم اللہ سے ایمان و اسلام کا معاہدہ کرنے والوں کو رغبت دلائیں ۔ اور دوسرے یہ کہ مرضی رب پر قائم ہونے کے سلسلے میں اس مادی دنیا میں جو رکاوٹیں پیش آتی ہیں، ان کا مقابلہ کرنے اور مشکلات کے باوجود مرضی رب پر ڈٹے رہنے کے لئے مشترکہ طاقت سے مدد لیں۔ دوسرا مرحلہ تنظیم کا مرحلہ ہے۔ یعنی مسلمان منتشر انبوه کی طرح نہ ہوں، بلکہ جس درجہ میں بھی ممکن ہو، وہ اپنے درمیان نظم قائم کریں اور شورائی اصول کے تحت اپنے اجتماعی معاملات کے فیصلے کریں۔ اس اصول کی ایک تعمیل وہ تھی جب حضرت موسیٰ نے صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کر کے ان کے اوپر بارہ نقیب مقرر کئے ۔ مکہ کے ابتدائی دور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے گرد یہ اجتماعی نظام قائم تھا اور دار ارقم اس کا مرکز تھا۔ ہجرت سے پہلے مدینہ کے انصار کے سلسلے میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ بیعت عقبہ ثانیہ (۶۲۳) کے موقع پر جب مدینہ کے چھتر اشخاص (۷۳ مرد، ۲ عورتیں) نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تو اس وقت آپ نے ان سے کہا تم لوگ اپنے اوپر بارہ نقیب مقرر کر لو (وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اخرجوا الى منكم اثني عشر نقیبا يكونون على قومهم بما فيهم، البداية والنہایہ، ج ۳، ص (۱۷۰) چنانچہ انھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader