Urdu book · اسلام

مضمونِ دعوت

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

مضمونِ دعوت وہ کون سا پیغام ہے جسے ہمیں لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ایک لفظ میں اس کا جواب ہے : توحید ــ یعنی ایک خدا کو ماننا اور اس کو اس طرح دل میں بٹھانا کہ وہی آدمی کی زندگی کا مرکز و محور بن جائے۔ روایات میں آتا ہے کہ مکہ فتح ہوگیا تو آپ نے لوگوں سے بیعت لینا شروع کیا۔ بڑے اور چھوٹے، مرد اور عورتیں آپ کے پاس آتی تھیں اور آپ ان سے دو چیزوں کی بیعت لیتے تھے : اسلام اور شہادت (فجاء ناس الكبار والصغار والرجال والنساء فبايعهم علی الاسلام والشهادة، بيهقی) د اخرج احمد عن عبد الله بن عثمان بن خيثم حضرت اسود بتاتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان محمد بن الاسود بن خلف اخبره ان ابا لا دیکھا کہ آپ فتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ الاسود رضى الله عنه رأى رسول الله صلى الله عليه آپ قرن پہاڑی کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے اور لوگوں وسلم يبايع الناس يوم الفتح ـ قال : جلس عند قرن سے اسلام اور شہادت پر بیعت لینے لگے۔ میں نے پوچھا مستقبله فبايع الناس على الاسلام والشّهادة شہادت کا مطلب کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے قلت و ما الشهادة ، قال : اخبرنی محمد بن الاسو بتایا کہ آپ نے لوگوں سے ایمان باللہ کی بیعت لی اور وہ بن خلف انه يايعهم على الایمان بالله و شہادت یہ کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ان لا اله الا الله و ان محمد عبدہ و رسولہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ توحید کا عقیدہ محض ایک فلسفیانہ مسئلہ نہیں، انسان کے امتحان کا پرچہ ہے۔ اس لحاظ سے آخرت بھی دعوت توحید کا لازمی جز بن جاتی ہے۔ داعی جب لوگوں کو توحید کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ انھیں اس واقعہ سے بھی ہوشیار کرتا ہے کہ خدا آج جس طرح غیب میں ہے، ہمیشہ غیب میں نہیں رہے گا۔ موت کے بعد ہمیں اس کے سامنے حاضر ہو کر اپنے کار نامۂ حیات کا حساب دینا ہے۔ وہ ان کو اس آنے والے مسئلہ سے آگاہ کرتا ہے کہ موت کے بعد آدمی کے لئے یا جنت ہے یا جہنم۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی وہ لوگ بالکل بے جگہ ہو جائیں گے جو خدا کے سوا کسی اور سہارے پر کھڑے ہوئے تھے۔ اور اس دنیا میں صرف انھیں لوگوں کو مقام حاصل ہوگا جنھوں نے خدا کا سہارا پکڑ رکھا تھا۔ پھر ان باتوں کی حیثیت عقلی قیاس آرائی کی نہیں بلکہ وہ وحی کے پختہ علم کے ذریعے انسان کو بتائی گئی ہیں ۔ اس لئے داعی کے پیغام میں لازمی طور پر رسالت کا عقیدہ بھی شامل ہو جاتا ہے ۔ وہ لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرنے کے لئے اور اس بات کے لئے کہ وہ اپنی زندگی کی کامیابی کے یقینی راستہ کو جانیں، انھیں رسالت کو اپنا رہنما بنانا پڑے گا۔ ورنہ وہ اندھیرے میں بھٹکتے رہیں گے اور کبھی صراط مستقیم کو نہ پاسکیں گے۔ دعوتِ حق کا بنیادی نکتہ بس یہی ہے۔ مگر انسان پتھر کے ٹکڑے کی طرح کوئی جامد اور منفرد چیز نہیں، وہ ایک نفسیاتی اور سماجی وجود ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کے لئے کسی بات کو ماننے کا مطلب ایسا نہیں ہے جیسے پتھر کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page