مضمونِ دعوت
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپر کسی خاص رنگ کا برش پھیر دیا۔ انسان کے تمام اعمال اس کی اندرونی فکر کے تحت صادر ہوتے ہیں۔ یہ اندونی فکر اور لآ اس کے شخصی وجود کو ایک خاص رُخ پر ڈھالتا ہے۔ پھر جب اس قسم کے بہت سے انسان مل کر وہ مجموعہ بناتے ہیں جسے سماج کہا جاتا ہے، تو ان کا اندرونی عقیدہ پورے معاشرہ کی سطح پر ایک ڈھانچہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح انسان کے لئے کسی عقیدہ کو قبول کرنا ایسا ہی ایک واقعہ بن جاتا ہے جیسے پانی کے اندر پتھر پھینکنا۔ پتھر گرنے سے پانی میں ابتدا ءٔ ایک مقامی دائرہ بنتا ہے، اس کے بعد وہ پھیلنا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ پورے تالاب کو گھیر لیتا ہے۔ اسی طرح توحید کا تنقیدہ ابتدا ءٔ قلب انسانی میں جگہ پاتا ہے۔ پھر وہ اس کی نفسیاتی تشکیل میں ہل چل برپا کرتا ہے۔ اس کے بعد انسان کی خارجی زندگی کو اپنے رنگ میں رنگتا ہے۔ پھر وہ اور آگے بڑھتا ہے اور خاندان، بازار، پارلیمنٹ، بین الاقوامی تعلقات غرض پوری معاشرتی زندگی اور سارے انسانی معاملات کو ایک خاص شکل میں تشکل کر دیتا ہے۔ داعی کا پیغام اگرچہ ابتدائی اور اساسی طور پر تو حید سے شروع ہوتا ہے مگر وہ انتہائی معنوں میں بالآخر اقوام متحدہ‘‘ کے مسائل تک پہنچ جاتا ہے۔ اسلام کی اس ہمہ گیری کو دیکھ کر بعض لوگ اسلام کو ’’جامع نظام‘‘ کے الفاظ میں تعبیر کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ تعبیر بظاہر صحیح ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک نقص رکھتی ہے۔ اس میں اصل حقیقت اور اس کے تقاضوں یا متعلقات کو ہم پلّہ قرار دے کر ایک ساتھ جوڑ دیا گیا ہے جسم کے اجزا کو وہی درجہ دے دیا گیا ہے جو کسی شخصیت میں عرف روح کا ہوتا ہے۔ اس کو مثال کے ذریعہ یوں سمجھیئے جیسے کسی کتاب میں محبت کی کہانی بیان کی گئی ہو۔ اس کا ایک فقرہ ہو ’’زید کو بکر سے محبت ہے‘‘ پھر لکھا ہو ’’ایک بار جب دونوں اسٹیشن پر ملے تو زید نے بکر کو گلے سے لگالیا‘‘، پھر یہ ہو کہ ’’بکر ایک مرتبہ زید کی بستی میں آیا تو زید نے اس کو اپنے گھر بلا کر اس کی دعوت کی‘‘ ان تینوں کو نمبر وار مرتب کر کے ایک شخص کہے : ’’محبت نام ہے تین چیزوں کے ایک جامع عمل کا۔ گلے ملنا، دعوت کرنا، دل سے چاہنا‘‘۔ ممکن ہے کسی کو محبت کی اس تعریف میں جامعیت کی جھلک دکھائی دے۔ مگر حقیقتہً اس میں ایک شدید غلطی کی گئی ہے اس میں محبت کی اصل حقیقت اور اس کے متعلقات کو بالکل برابر کی حیثیت دے کر بیان کر دیا گیا ہے۔ گویا یہ تینوں باتیں جب ایک شخص کے اندر اکٹھا ہو جائیں، اس وقت اس کی محبت کامل محبت قرار پائے گی۔ حالانکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ کسی مثال میں صرف ایک جز ء (دل سے چاہنا) پایا جائے اور باقی یہ دو اجزا موجود نہ ہوں۔ حتی کہ ان کو حاصل کرنے کی باقاعدہ کوشش بھی نہ کی گئی ہو، اس کے باوجود وہ مکمل معنوں میں محبت ہو۔ دعوت دین کے سلسلے میں اس کے اجزا کے باہمی تعلق کی اس نزاکت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ ہم دعوت کا حق ادا نہ کر سکیں گے۔ براہ راست اسلام کی طرف بلانا عام حالات میں حکمت کے خلاف معلوم ہوتا ہے ۔ اس لئے جو لوگ اس میدان میں کچھ کرنا چاہتے ہیں، ان کا ذہن اس سوال پر مختلف سمتوں میں مڑ جاتا ہے کہ دعوت کا طرزِ خطاب کیا ہو۔ کچھ لوگوں کے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ اسلام کو ’’سماج سدھار‘‘ کی ایک اسکیم یا بہتر نظام کے عنوان سے لوگوں کے سامنے لایا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader