Urdu book · اسلام

مضمونِ دعوت

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کو اس حیثیت سے پیش کیا جائے کہ وہ عالم گیر سچائیوں کا علم بردار ہے جو تمام مذاہب میں مشترک طور پر پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں نے اس کو فلسفیانہ روپ دینے کی کوشش کی اور یہ کہا کہ انسان کے اخلاقی شعور کو بنیاد بنا کر خدائی شریعت کی ضرورت ثابت کی جائے وغیرہ۔ مگر ان سارے طریقوں میں مشترکہ نقص یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ہم کو شہادت حق کے اصل کام سے بری الذمہ نہیں کرتا۔ کیوں کہ شہادت کے کام کا اصل پہلو یہ ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے ہوشیار کیا جائے۔ طرزِ خطاب کا یہ سوال، جس کی وجہ سے ذہن مختلف سمتوں میں مڑ جاتے ہیں، صرف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس سوال کا جواب تاریخ سے لے رہے ہیں، پیغمبر اسلام کی زندگی میں اسے تلاش نہیں کرتے۔ نفسیاتی طور پر ہم اسلام کی بعد کی تاریخ کے وارث ہیں اور بعد کی تاریخ میں جو طرزِ خطاب رائج ہوا، وہ ”اے لوگو اسلام لاؤ“ تھا۔ اس لئے دعوت کا نام لیتے ہی وہی ہمارے ذہن میں آجاتا ہے۔ مگر آپ کی دعوتی زندگی میں اس معاملہ میں ایک مخصوص تدریج ملتی ہے ۔ ”اسلام“ کے نام پر دعوت آپ کے یہاں مدنی دور میں شروع ہوئی ۔ اس سے پہلے مکی دور میں آپ کی دعوت کے الفاظ اس قسم کے ہوتے تھے : ایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا ، انی نزیر لکم بین یدى عذاب شدید ، وغیرہ آپ کی مکی دور کی تقریریں، جو ملتی ہیں، وہ سب اسی زبان میں ہیں ۔ ”اَسْلِمْ تُسْلَمْ“، کی زبان بعد کو مدنی دور میں اختیار کی گئی۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں جب آپ نے ابو بکر صدیق رضی کے سامنے دعوت پیش کی تو آپ کے الفاظ یہ تھے : انی رسول اللہ ادعوک الی اللہ ۔ مگر فتح مکہ کے بعد حضرت ابوبکر کے والد ابو قحافہ کو آپ نے دعوت پیش کی تو یہ الفاظ فرمائے : یا ابا قحافة اَسْلِمْ تُسْلَمْ ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک منظم مذہب میں داخلہ کی دعوت مدنی دور میں شروع ہوئی جب کہ حق کا عمومی تعارف ہو چکا تھا اور اسلام کا غلبہ بالفعل مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے منظم مذہب کے بجائے حقیقتِ مذہب آپ کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہوا کرتا تھا۔ طرزِ خطاب کے بارے میں اس بنیادی نکتہ کو سامنے رکھا جائے تو سارے اشکالات ختم ہو جاتے ہیں، مدعو کی طرف سے کسی نفسیاتی پیچیدگی کا اندیشہ کئے بغیر اصولی طور پر اس مسئلہ سے انداز کو دعوت حق کا بنیادی نکتہ بنایا جاسکتا ہے جس کو قرآن میں یوم الجمع (شوریٰ ۔ ٧)، اور یوم التلاق (غافر ۔ ١٥) اور یوم الآزفہ (غافر ۔ ١٨) کہا گیا ہے جبکہ انسان کے کھلے اور چھپے کا حساب ہوگا (بقرہ - ۴ ۲۸) جب شدت ہول سے کلیجے منھ کو آئیں گے (غافر ۔ ۱۸) یہی وہ مسئلہ ہے جو قرآن کی مکی سورتوں (بالفاظ دیگر دعوتی دور) میں چھایا ہوا ہے۔ ہم یہاں چند مثالیں نقل کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ منظم مذہب میں داخلہ کی دعوت کے بجائے حقیقت مذہب کی طرف بلانے کا مطلب کیا ہے : ا۔ قرآن کی ایک کی سورہ حسب ذیل ہے : الھاکم التکاثر حتی زرتم المقابر ، کلا سوف تعلمون بھلا ئے رکھا تم کو زیادہ کی حرص نے، یہاں تک کہ تم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page