مضمونِ دعوت
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
ثُمَّ كَلَّا سَوفَ تَعْلَمُونَ ، كَلَّا لَو تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ ، ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ تکاثر جا پہنچے قبروں میں۔ ہرگز نہیں، تم بہت جلد جان لو گے ، یقیناً تم بہت جلد جان لو گے ، ہرگز نہیں، اگر تم جانتے یقین کا جاننا، بے شک تم دیکھ لیتے دوزخ کو ، پھر تم دیکھو گے اس کو یقین کی آنکھ سے۔ اس کے بعد ضرور اس دن تم سے پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں جرمن نومسلم محمد اسد ( ) کو ابتداء اسلام سے متاثر کرنے کا سبب یہی سورہ ہوئی تھی۔ ۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دعوت عام کا حکم ہوا تو آپ عرب کے رواج کے مطابق صفا کے ٹیلے پر چڑھے اور لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی۔ حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق یہ تقریر حسب ذیل تھی: ارأیتم لو اخبرتکم ان خیلا بسفح ھذا الجبل ترید ان تغیر علیکم صدقتمونی، قالوا نعم، قال فانی نذیر لکم بین یدی عذاب شدید (البدایہ والنہایہ ، ج ۳ ، صفحہ ۳۸) بتاؤ، اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تمھارے اوپر غارت گری کرنے کے لئے جمع ہے تو کیا تم میری بات مانو گے۔ سب نے کہا ہاں، آپ نے فرمایا، میں تم کو آنے والے ہولناک عذاب سے ڈراتا ہوں ابوسفیان بن حرب اور ہند بنت عتبہ کے سامنے آپ نے ایک بار ان الفاظ میں اپنی دعوت پیش کی : والله لتموتن ثم لتبعثن ثم ليدخلن المحسن الجنه والمسيئ النار وانا اقول لكم بحق وانكم لاول من انذرتم (ابن عساكر عن معاويه) خدا کی قسم تم کو ضرور مرنا ہے ، اس کے بعد تم اٹھائے جاؤ گے ، پھر جو بھلا ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو برا ہو گا وہ جہنم میں جائے گا۔ یہ جو میں نے کہا بالکل صحیح ہے اور تم دونوں پہلے شخص ہو جن کو میں ڈرا رہا ہوں۔ ۳۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک بار فرمایا : ويل لديان مَن فى الارض من ديان من فى السماء يوم يلقونه الامن امر بالعدل، وقضى بالحق ولم يقض على هوى ولا على قرابة ولا على رغب ولا على رهب ويجعل كتاب الله مرآة بين عينيه خرابی ہے اس حاکم کے لئے جو زمین میں ہے اُس حاکم سے جو آسمان میں ہے اُس دن جب وہ اس سے ملے گا۔ سوا اس کے جو انصاف کا حکم دے ، حق کے ساتھ فیصلہ کرے اور خواہش اور قرابت داری کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے اور نہ خوف اور طمع کی بنیاد پر اور اللہ کی کتاب کو اپنی دونوں آنکھوں کے سامنے آئینہ بنا کر رکھے۔ خوش قسمتی سے موجودہ زمانہ میں اس مسئلہ نے ایک نئی اہمیت حاصل کر لی ہے آج علم الموت (Thanatalogy) کے نام سے ایک مستقل شعبہ علم وجود میں آگیا ہے جو موت کے مسئلہ کا سائنسی نقطہ نظر سے مطالعہ کرتا ہے۔ زیادہ دن نہیں گزرے ، موت کے بارے میں بحث زیادہ تر بعض مخصوص قسم کی مذہبی کتابوں کا موضوع ہوتی تھی۔ اچانک طور پر موت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader