Urdu book · اسلام

مضمونِ دعوت

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید دنیا کا بہت زیادہ مقبول موضوع بن گیا ہے۔ حتیٰ کہ اب وہ علمی اختصاص کا ایک موضوع ہے۔ امریکہ کی مینی سوٹا یونیورسٹی کو فخر ہے کہ اس نے موت کے مطالعہ کا ایک مرکز قائم کیا ہے۔ یو۔ سی۔ ایل۔ اے نے اپنے یہاں ایک لیبوریٹری قائم کی ہے جس کا مقصد زندگی کو نقصان پہنچانے والے حالات کا مطالعہ کرنا ہے۔ اجتماعی مجالس میں اب موت کا موضوع، جنس اور سیاست جیسے سدا بہار موضوعات سے تجاوز کرنے لگا ہے۔ امریکی ماہنامہ ”اٹلانٹک“ کے ایک جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ کتابوں کی ایک نئی قسم وجود میں آگئی ہے جس کو ”علم موت سے متعلق کتا بیں“ کہا جاسکتا ہے۔ ایسی حالت میں دعوت کا اس سے بہتر انداز اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ موت اور آخرت کے پہلو سے انسان کو متنبہ کیا جائے۔ انذارِ آخرت کو دعوت کا مرکزی نقطہ قرار دینا اس لئے ہے کہ یہی انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ واقعہ کہ مرنے کے بعد آدمی کو اپنے اعمال کا اتناہی انجام بھگتنا پڑے گا، موت کو اور اس کے بعد آنے والی زندگی کو وہ اہم ترین مسئلہ بنا دیتا ہے جس پر آدمی کو سب سے زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ ڈاکٹر بلی گراہم ( - ۱۹۱۸) نے لکھا ہے کہ مجھے ایک شخص نے اپنے گھر پر بلایا۔ یہ دنیا کے چند انتہائی دولتمند آدمیوں میں سے ایک تھا۔ دعوت نامہ سے ظاہر ہوتا تھا کہ مجھے پہلی فرصت میں اس کے یہاں پہنچنا چاہئے ۔ شام کے کھانے کے فوراً بعد وہ مجھے ایک علیحدہ کمرے میں لے گیا اور کہا: While I am now in good health, my age tells me that I haven't long to live. I've never thought much about death before — but now I find my mind preoccupied with it, and the idea frightens me. I need help. اگرچہ میری صحت اس وقت اچھی ہے مگر میری عمر کہتی ہے کہ اب میں زیادہ دن تک زندہ نہیں رہوں گا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی موت کے بارے میں نہیں سوچا۔ مگر آج کل میں پاتا ہوں کہ میرا دماغ موت کے خیالات سے بھرا ہوا ہے۔ یہ تصور مجھے لرزاتا ہے کہ میں جلدی مرجاؤں گا، مجھے مدد کی ضرورت ہے۔ (ریڈر ڈائجسٹ دسمبر ۷، ۶۱۹) یہ واحد مسئلہ ہے جو ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیونکہ ہر شخص کو مرنا ہے۔ ہزاروں برس کے تجربہ نے اس میں کوئی استثناء ثابت نہیں کیا۔ پھر یہ موت آدمی کا سب سے زیادہ فوری مسئلہ ہے۔ کیوں کہ موت کے آنے کا کوئی وقت نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنی ہی بڑی دنیوی کامیابی حاصل کرے، جب موت کا خیال آتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ نہ تو وہ موت کو ٹال سکتا ہے اور نہ اپنی موجودہ دولت سے وہ اگلی زندگی کی کامیابی کو خرید سکتا ہے ۔ انسانی فطرت کا یہ گوشہ وہ سب سے قیمتی مقام ہے جہاں سے آپ حق کی دعوت کو کسی کے دل میں اتار سکتے ہیں۔ یہ وہ دروازہ ہے جس پر کوئی پہرہ دار نہیں۔ آپ جب بھی کسی دل کے اس دروازے پر دستک دیں، وہ آپ کو کھلا ہوا ملے گا۔ یہ واحد دروازہ ہے جو کبھی کسی کے یہاں بند نہیں ہوتا۔ اسلامی مرکز آج ساری دنیا کے مسلمانوں کی سب سے بڑی اور پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اقوامِ عالم کے سامنے حق کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page