مضمونِ دعوت
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
گواہ بھی کر کھڑے ہوں، کوئی بھی دوسرا عمل ان کو اس ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتا۔ یہ خدا کا وہ کام ہے جس کے لئے اس نے اہل ایمان کے جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے۔ (توبہ - ۱۱۱) اس کام کا آغاز کس طرح کیا جائے۔ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ مسلمانوں کا ایسا مرکز ہو جہاں دعوت اور تربیت کا انتظام ہو، جہاں ایک طرف غیر مسلموں کو اللہ کا کلام سنایا جائے (توبہ۔۶) اور دوسری طرف وہاں اس کا انتظام ہو کہ مختلف علاقوں کے مسلمان اپنی آبادیوں سے نکل کر آئیں اور وہاں تبلیغ دین کی تربیت حاصل کریں اور پھر اپنے اپنے علاقوں میں واپس جا کر اپنی قوموں کو آگاہ کریں (توبہ ۱۲۲) اس قسم کے ایک مرکز کا قیام آج مسلمانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اس مرکز کو آج کی دنیا کے معیار کے مطابق ہونا چاہئے۔ عیسائی مبلغین نے اپنے دین کی تبلیغ کے لئے آج ایسے مراکز قائم کر رکھے ہیں جن میں سے ایک ایک مرکز میلوں کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کے پاس اپنے ریڈیو اسٹیشن، اپنے ہوائی جہازوں کے دستے اور اپنی یونیورسٹیار ہیں۔ جب تک ہم اس معیار پر یا اس سے بہتر شکل میں اپنا مرکز قائم نہ کریں، ہم دعوت حق کی ادا گی کے لئے خدا کے یہاں معذور نہیں قرار دیئے جا سکتے۔ ہمارے پاس ایک وسیع زمین پر ایک ایسا مکمل ادارہ ہونا چاہئے جونشرواشاعت کے تمام اعلیٰ ترین ذرائع سے لیس ہو۔ جس کی اپنی یونیورسٹی ہو، اپنی مکمل لائبریری ہو، تحقیق و تصنیف کے اعلیٰ ترین ادارے ہوں، تمام اہم زبانوں کا دارالاشاعت ہو۔ ریڈیو اسٹیشن اور ہوائی جہازوں کا دستہ ہو۔ غرض وہ سب کچھ ہو جو آج خدا کی زمین پر موجود ہے اور جس سے دین کی اشاعت میں کام لیا جا سکتا ہے۔ کتاب کے مصنف کے لئے بلاشبہ یہ ایک خواب ہے۔ مگر مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے خزانے کھولے ہیں۔ ان کے لحاظ سے اس قسم کے مرکز کا قیام اس قدر آسان ہے کہ موجودہ وسائل کا ادنیٰ استعمال بھی اس کو اعلیٰ ترین قیاسی شکل میں قائم کرنے کے لئے بالکل کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ناگزیر طور پر یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندوں تک اس کا پیغام پوری طرح پہنچ جائے۔ یہی حکمت تھی جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے دورِ تلوار میں مسلمانوں کے ہاتھ میں تلوار کی طاقت دی اور اس کے ذریعہ انھوں نے اس وقت کی تمام معلوم دنیا کو فتح کر ڈالا، 10 اور ہر جگہ اسلام کی آواز پھیلادی۔ اسی طرح مشین کے دور میں حیرت انگیز طور پر انھیں تیل کی طاقت دے دی گئی ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ نمبرے، ۱۴ (۴- ۱۹) میں کہا گیا ہے کہ آج پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک (Opec) کے ہاتھ میں تیل کی عالمی تجارت کا ۵۸ فی صد حصہ ہے اور اس طرح انھوں نے جدید دنیا میں کلیدی اقتصادی طاقت (Economic leverage) کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ یہ مواقع انھیں اس کے سوا کسی اور غرض سے نہیں دیئے گئے ہیں کہ ان کو اس اصل کام پر صرف کیا جائے جو تمام مسلمانوں کا واحد نعرہ نصب العین ہے۔ زمین سے تیل نکالنے کا کام، جدید تاریخ میں ۱۸۵۹ میں شروع ہوا۔ جب کہ امریکہ کے ایڈون ایل۔ ڈٹرک نے پنسلوانیا میں ۱۰۰ فٹ کی گہرائی سے تیل نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ مشرق وسطیٰ میں تیل کی دریافت پہلی بار ۱۹۰۸ میں مسجد سلیمان میں ہوئی۔ اس وقت عرب دنیا پر ترکوں کی حکومت تھی۔ مغربی کمپنیوں نے عثمانی سلطنت سے اس علاقہ میں تیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader