مضمونِ دعوت
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
نکالنے کے لئے خصوصی مراعات حاصل کر لیں۔ جدید صنعتی دنیا کی قوت اور ترقی کا راز یہی تیل ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے زراعت کے لئے پانی اور انسانی جسم کے لئے خون ہوتا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اس قدرتی دولت کا بڑا حصہ اسی زمین کے نیچے دفن ہے جس کو مشرق اور وسطیٰ خلیج فارس کے ممالک کہا جاتا ہے۔ موجودہ صدی کے آغاز سے لے کر اب تک یہ دولت تمام تر مغرب کی صنعتی قوموں خصوصاً امریکہ کے قبضہ میں رہی ہے۔ ان قوموں کی ترقی کا اصل راز وہ سستا ایندھن تھا جو انہیں نہایت آسانی سے مسلسل مشرق اور وسط سے مل رہا تھا۔ مسلم دنیا کے تیل سے طاقت در ہو کر وہ مسلم دنیا کو مغلوب کرتے رہے۔ اس مدت میں ہمارے یہاں بے شمار تحریکیں اٹھیں اور بڑے بڑے لیڈر پیدا ہوئے مگر کوئی بھی اس راز سے باخبر نہ ہو سکا اور نہ کسی نے قوم کو اس رخ پر اٹھانے کی کوئی جدوجہد کی۔ اکتوبر ۱۹۷۳ء کی جنگ میں تیل کے حربہ کا استعمال، وہ بھی شعوری طور پر نہیں بلکہ زیادہ تر "گر بہ عاجز" کی نفسیات کے تحت، پہلا تجربہ تھا جب کہ لوگوں کو معلوم ہوا کہ تیل ایک طاقت ہے، اتنی بڑی طاقت کہ اس کا جزوی استعمال بھی پوری صنعتی دنیا کو ہلا سکتا ہے۔ آج شرق اور وسطیٰ زمین سے جو تیل نکالا جا رہا ہے، اس کی قیمت ۱۹۷۳ء کے وسط میں، ہر دن ۲۰ کروڑ ڈالر ہوتی ہے۔ دولت کے اس سیلاب نے خلیج فارس کے ممالک کو اچانک اس قدر مالا مال کر دیا ہے کہ تعیشات کی ہر قیاسی حد اس کے استعمال کے لئے ناکافی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ وہ اپنی دولت کو کہاں صرف کریں۔ عالمی بنک کے اندازے کے مطابق ۱۹۸۵ء تک تیل کے ممالک کے پاس، تمام ممکن مدوں میں مسرفانہ حد تک خرچ کرنے کے بعد بھی، ایک ٹریلین ڈالر کے نندر فاضل رقم موجود ہوگی۔ یہاں ہم صرف یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے دولت کے اس ظہور کی پیشین گوئی اس وقت کر دی جبکہ عرب دنیا میں ریت اڑتی تھی اور ہر طرف خشک پہاڑ کھڑے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ یہ پیشین گوئی حدیث کی کتابوں میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: یوشك ان يحسر الفرات عن كنز من ذهب قریب ہے کہ فرات سے سونے کا خزانہ نکلے۔ اس زمانہ میں جو فمن حضره فلا ياخذ منه شيئا (متفق عليه) موجود ہو وہ ان میں سے کچھ نہ لے۔ اس آبی خزانہ کی بابت آپ کا یہ ارشاد انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ "تم اس میں سے اپنے لئے نہ لینا"، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیال سونا Liquid gold کی یہ قدرتی دولت جو ظاہر ہوگی، وہ ذاتی عیش کے لئے نہ ہوگی۔ بلکہ یہ خدا داد دولت خدا کے کام کے لئے ہوگی۔ جن ملکوں میں تیل کی دولت برآمد ہوئی ہے وہ ان کے لئے بہت بڑا فتنہ ہے۔ ان کی نجات کی واحد شکل یہ ہے کہ وہ اس دولت کو ضدری اخراجات کے علاوہ اسلامی دعوت اور اسلام کے احیاء کی جدوجہد میں لگائیں اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو یہ خزانہ قیامت میں ان کے لئے اس سے بھی زیادہ سخت وباء ہوگا جس کی دھمکی قرآن کی نویں سورہ میں دی گئی ہے (توبہ - ۳۴) حقیقت یہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے مسلم ممالک کے لئے آج انفاق کی سب سے زیادہ ضروری مد یہ ہے کہ وہ اپنے مشترکہ عطیات سے ایک بڑا فنڈ قائم کریں، اور اس کے ذریعہ سے جدید ترین معیار پر ایک عظیم انسان اسلامی مرکز تعمیر کیا جائے۔ کوئی معمولی ادارہ آج کی دنیا میں شہادت حق کا کام انجام نہیں دے سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader