Urdu book · اسلام

مضمونِ دعوت

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ معیار بندی (Standardization) کا دور ہے اور آج کی دنیا میں کوئی چیز اسی وقت مؤثر ہوسکتی ہے جب کہ وہ اس معیار کے مطابق ہو جو اس قسم کی چیزوں کے بارے میں بن گیا ہے۔ رسولوں کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا اظہار ہمیشہ اعجاز الہی کی سطح پر ہوا ہے۔ کسی زمانہ میں عام انسانی ذہنوں میں جس چیز کی اہمیت تھی اس کے اعتبار سے پیغمبروں کو معجزے دیئے گئے تاکہ انسان خود اپنے مقرر کردہ معیاروں کی روشنی میں دین خدا کی برتری کا مشاہدہ کرسکے۔ پیغمبر آخرالزمان کو اس قسم کا کوئی معجزہ نہیں دیا گیا۔ جب مخالفین اسلام کی طرف سے اس سلسلہ میں شدید مطالبات کئے گئے تو کہا گیا کہ یہ قرآن جو اتارا گیا ہے، یہی تمھارے لئے معجزہ ہے (عنکبوت ۔ ۵۱) یہ آنے والے دور کی رعایت تھی۔ پیغمبر آخرالزمان کے بعد انسانی تاریخ میں جو دور آرہا تھا، وہ علم اور سائنس کا دور تھا۔ اس آنے والے دور میں ”معجزات“ کی نہیں بلکہ عقل اثبات اور منطقی استدلال کی اہمیت ہونے والی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے دور آخر میں اپنی مرضیات کے اظہار کے لئے 'قلم' (علق ۔ ۴) کا ذریعہ اختیار فرمایا اور قرآن کی شکل میں ایک ایسی کتاب نازل کی جس کا جواب دینا جن و انس کے لئے ممکن نہ ہو (اسراء ۔ ۸۸) موجودہ دور میں جو سب سے بڑی غلطی ہوئی ہے، وہ یہ کہ دور حاضر کے فکری معیار کے مطابق قرآن کا اظہار نہ کیا جاسکا۔ موجودہ دور میں ہماری تمام ناکامیوں کی جڑ اسی ایک کوتاہی میں چھپی ہوئی ہے۔ اس لئے مجوزہ اسلامی مرکز کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ تمام اعلیٰ ترین تحقیقی ذرائع کو استعمال کرکے اسلام کی تعلیمات کو وقت کے علمی معیار پر مدلل کرے ۔ اس کے تمام شعبوں کا اولین نشانہ اسی اہم ترین کام کو ہونا چاہئے۔ علمی کام کے دو خاص پہلو ہیں جو مندرجہ ذیل آیت سے اخذ ہوتے ہیں : قل أرء يتتم ما تدعون من دون الله اروني ماذا کہو، جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا، دکھلاؤ مجھ کو انہوں خلقوا من الارض ام لهم شرك فى السموات، نے کیا بنایا زمین میں یا ان کا کچھ سانجھا ہے آسمانوں میں، ائتونی بكتاب من قبل هذا او اثرة من علم ان كنتم لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے یا کوئی علم صدقين احقاف ۔ ۴ جو چلا آتا ہو، اگر تم سچے ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی بات کو ثابت کرنے کی دو استدلالی بنیادیں ہیں ۔ ایک مستند آسمانی کتاب۔ دوسرے، کوئی علم جو وقت کے ارباب عقل کے نزدیک مسلم ہو۔ یہی دونوں چیزیں ہمیں دعوت حق کی پشت پر بھی فراہم کرنا ہیں۔ ایک طرف قرآنی تعلیمات کو، جیسی کچھ کہ وہ ہیں، کھول کر بیان کرنا ہے اور دوسری طرف مروجہ علمی معیار پر اسلام کو مدلل کرنا ہے، پہلے کام کا عنوان اثبات دین ہے اور دوسرے کا عنوان علم کلام۔ دینی تعلیمات کے مثبت اظہار کے لئے ہمارے یہاں بے شمار تحریری کام ہوئے ہیں۔ مگر یہ سب زیادہ تر روایتی طرز پر ہوئے ہیں۔ جدید فکری تقاضوں کے مطابق ان کو انجام دینا ابھی باقی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز قرآن ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اسلام کی دعوت کے سلسلے میں سب سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page