Urdu book · اسلام

مضمونِ دعوت

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ مؤثر چیز خود قرآن ہے۔ کوئی بھی کتاب یا تقریر یا گفتگو اس خدائی کلام کا بدل نہیں بن سکتی۔ مگر قرآن اسی شخص کے لیے مؤثر ہو سکتا ہے جو قرآن کی زبان جانتا ہو۔ اسلام کے اولین داعی اس راز کو خوب سمجھتے تھے۔ اسی لیے جب وہ عرب کے جغرافیہ سے باہر نکلے تو انھوں نے ساری کوشش اس پر صرف کر دی کہ دوسری قوموں کو عربی زبان سمجھنے والا بنا دیں۔ اس وقت جزیرہ نما عرب کے باہر جو قومیں آباد تھیں، ان میں مختلف زبانیں رائج تھیں ۔ عراق و شام میں آرامی زبان۔ مصر میں قبطی زبان، بلادِ مغرب (افریقہ) میں بربرجی زبان۔ عربوں کی کوشش سے صرف ایک صدی کے اندر یہ تمام زبانیں ختم ہو گئیں اور پورا علاقہ عربی بولنے والا علاقہ بن گیا۔ بعد کے زمانہ میں جب مسلم قوموں پر جمود طاری ہوا تو اصل مقصد فوت ہو گیا۔ البتہ اس قسم کے مسائل پر بے روح بحث شروع ہو گی کہ قرآن کا ترجمہ دوسری زبانوں میں جائز ہے یا نا جائز ۔ نمازِ عربی کے علاوہ دوسری زبان میں پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں۔ جمعہ کا خطبہ کیا کسی غیر عربی زبان میں دیا جا سکتا ہے ۔ وغیرہ خوش قسمتی سے موجودہ زمانہ میں مختلف وجوہ سے عربی زبان کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ تیل کی سیاست اس درجہ مؤثر ہوئی ہے کہ اقوام متحدہ میں عربی کو پانچویں زبان کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا ہے۔ قدیم تاریخ کو اس کے اصل ماخذ سے سمجھنے کا رجحان اور مذاہب کا از سر نو جائزہ لینے کا ذہن بھی لوگوں کو عربی زبان کی طرف مائل کر رہا ہے عربی جس کو دس کروڑ عوام بولتے ہیں اور جو ۲۱ ملکوں کی سرکاری زبان ہے، تمام ملکوں کی سیاستِ خارجہ میں اپنی اہمیت منواتی جارہی ہے۔ عرب دولت نے تمام قوموں کے لیے عربی زبان میں نئی دل چسپی پیدا کر دی ہے۔ ان نئے مواقع کو ہمیں عربی زبان کے فروغ کے لیے بھر پور طور پر استعمال کرنا ہے۔ یہاں جدید طریقے ہماری مزید مدد کے لئے موجود ہیں۔ آج کسی نئی زبان کو سکھانے کے لئے ایسے آسان طریقے وضع ہو گئے ہیں کہ صرف چند ہفتوں میں ایک شخص کو کسی غیر زبان سے ضروری حد تک واقف کرا دیا جاتا ہے ۔ ہمیں ان طریقوں کو اختیار کر کے عربی دانی کو فروغ دینا چاہئے اور قدیم دھیانوسی طریقوں کو بالکل ترک کر دینا چاہئے۔ اس سلسلہ کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ قرآن کی تعلیمات، سیرت رسول، حالات صحابہ اور اسلامی تاریخ پر مختلف زبانوں میں ایسی کتابیں تیار کی جائیں جو بالکل سادہ قسم کے واقعاتی انداز میں لکھی گئی ہوں۔ اس میں کسی قسم کا تعبیری یا کلامی اضافہ نہ کیا گیا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ نام نہاد ادبی اسلوب اور عقیدت مندانہ زبان سے انتہائی حد تک پر ہیز کیا جائے ۔ یہ کام صرف وہ لوگ کریں جنھوں نے وقت کے تحقیقی اسلوب میں تربیت حاصل کی ہو اور جدید طر زِ تحریر پر بخوبی قدرت رکھتے ہوں ۔ ۲۔ اس کے بعد جو چیز مطلوب ہے ۔ وہ اسلام کا علمی اظہار ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کچھ کتابیں کسی نہ کسی طرح لکھ کر چھاپ دی جائیں۔ اسلام کا علمی اظہار در حقیقت موجودہ زمانہ میں معجزہ نبوت کا بدل ہے۔ اس لئے وہ اسی وقت کار آمد ہے جب کہ وہ ” اعجاز“ کی سطح پر کیا گیا ہو۔ اس سے کم تر سطح پر کیا ہوا کام حقیقت نہ علمی ہے اور نہ وہ کسی درجہ میں دین کی ضرورت کو پورا کرتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page