Urdu book · اسلام

مضمونِ دعوت

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے ڈرانے والے بھیجے ، سب ان قوموں کی ”لسان“ میں بھیجے گئے جن کے درمیان وہ آئے تھے (ابراہیم ۔ ۴) لسان قوم سے محدود طور پر صرف زبان مراد نہیں ہے بلکہ اس میں اسلوب بیان بھی شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس زمانہ میں اور جس قوم میں اسلام کی دعوت پیش کی جارہی ہو، وہ زبان و بیان کے اعتبار سے اس کی سطح پر ہو۔ وہ اس کے علمی ذوق ، اس کے طرز استدلال ، اس کے طریق اظہار اور اس کے معیار فکر کے پوری طرح مطابق ہو۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانہ تجزیاتی استدلال کا زمانہ ہے۔ اب اگر آج کوئی شخص جذباتی تقریر، شاعرانہ استدلال اور تمثیلی پیرایہ بیان میں اپنی بات پیش کرے تو وہ ایک قسم کی خلافت زمانہ حرکت (Anachronism) ہوگی اور قرآن کے بیان کردہ معیار پر پوری نہیں اترے گی ۔ دوسرا ضروری اصول اللہ تعالیٰ کی اس سنت سے اخذ ہوتا ہے جو اس نے ”معجزات“ کے سلسلہ میں اختیار فرمایا ہے۔ معجزہ کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں باطل جس سہارے پر کھڑا ہو، اس کو اس سہارے سے محروم کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر مصر میں یوم الزینہ کے موقع پر جب جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں ڈالیں اور وہ سانپ کی طرح رینگتی ہوئی دکھائی دیں تو یہ در حقیقت حضرت موسیٰ کے بالمقابل گروہ کے حق میں کبریائی اعلان تھا۔ حضرت موسیٰ کا عصا ان کے ”انک “ کو نگل گیا۔ یعنی جب نہ از دہابن کر رسیوں اور لکڑیوں کے اوپر سے گزرا تو وہ صرف رسیاں اور لکڑیاں ہو کر رہ گئیں، ان کی حرکت اور سانپ کی سی شکل ختم ہو گئی۔ فاذ اهى تلقف مايا فنكون - فواقع الحق وبطل پس وہ ان کے انک کو نگلنے لگا۔ اور حق ظاہر ہوگیا۔ اور ۱۱۸ – اعراف جو کچھ انھوں نے کیا تھا، وہ غلط ہو کر رہ گیا۔ ما كانوا يعملون اسی طرح موجودہ زمانہ میں علم اور تحقیق کی بنیاد پر مذہب کے بالمقابل ایک دعوئی کھڑا کیا گیا ہے۔ اب دین حق کے علم برداروں کا کام یہ ہے کہ وہ جوابی علم اور جوابی تحقیق کے ذریعہ دین حق کو اتنا مدلل کریں اور فریق ثانی کی استدلالی کمزوریوں کو اس طرح مبرہن کریں کہ ان کی علمی دیوار منہدم ہو جائے ۔ خدا کے دین کی صداقت ثابت شدہ ہو کر سامنے آ جائے ۔ اسلامی مرکز کا دوسرا اہم مقصد دور جدید کی ضرورتوں کے لحاظ سے افراد تیار کرنا ہے۔ یہ کام معروف طرز کے تربیتی کیمپوں کے ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے جدید ترین معیار کی ایک یونیورسٹی درکار ہے۔ وقت کا فکر، جس سے اسلام کو مقابلہ درپیش ہے، وہ اعلیٰ ترین تحقیقات کے زیر سایہ وجود میں آ رہا ہے۔ اس لئے اس کا سامنا کرنے والے افراد بھی اعلیٰ ترین تحقیقات ہی کے زیر سایہ پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھیں فرعون کے محل سے لے کر صحرائی زندگی تک مختلف مراحل اور تجربات سے گزارا گیا۔ یہاں تک کہ وہ جنگی کے اس مقررہ درجہ کو پہنچ گئے جب کہ سنت الہی کے مطابق انھیں نبوت کی ذمہ داری سونپی جائے اور وہ اس کو بخوبی انجام دیں (ثم جئت علی قَدْرِ یا موسیٰ ، طہ ۔ ۴۰) یہی طریقہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کے سلسلہ میں اختیار فرمایا ہے۔ بعد کے زمانہ کے داعیوں اور مبلغوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اسی اصول کے مطابق اپنے آپ کو تیار کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page