Urdu book · اسلام

عبادت کے تقاضے

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اپنے میں سے بارہ ذمہ دار آدمی منتخب کئے ، جن میں سے تین قبیلہ اوس کے تھے اور نو قبیلہ خزرج کے۔ اس کے بعد آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا : انتم کفلاء علی قومکم زرقانی جلد اول، صفحہ ۳۸۲ تم مومنین مدینہ کے اوپر نگراں اور ذمہ دار ہو۔ اسی قسم کی امارت حضرت جعفر کی تھی جو حبش کے مہاجرین کے اوپر امیر مقرر ہوئے تھے (سیرت ابن ہشام) اسی طرح دار الاسلام سے نکل کر مسلمان دنیا کے جن علاقوں میں پھیلے ، ہر جگہ انھوں نے اپنی جماعتی تنظیم بنانے کی کوشش کی۔ خود اسلامی زندگی گزارنے اور دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ جس چیز کی انھوں نے خاص طور پر کوشش کی، وہ یہی تھا کہ وہ منظم ہوں اور ایک سربراہ کے تحت اپنے شرعی فرائض کو انجام دیں۔ اسلامی اجتماعیت کا آخری مرحلہ سیاسی نظام کی تشکیل ہے جس کو اصطلاح میں نصب امارت کہا جاتا ہے ۔ نصب امارت ، یعنی مسلمانوں کا سیاسی اور اجتماعی امام مقرر کرنا متفقہ طور پر واجب ہے : نصب الامام عند نا واجب (شرح مواقف) مسلمانوں کے لئے اپنے اوپر امام مقرر کرنا ہمارے نزدیک واجب ہے لا بد للامة من امام (شرح مقاصد) مسلمانوں کا اپنا ایک امام ہونا لازمی ہے ۔ المسلمون لا بد لهم من امام (عقائد نسفی) مسلمانوں کے لئے ایک امام ضروری ہے۔ اس مسئلہ کی اہمیت کا یہ حال ہے کہ فقہ و عقائد کی کوئی بھی کتاب اس کے تذکرہ سے خالی نہیں اور اس میں خوارج کے ایک معدوم فرقہ "نجدات" ، کے سوا کسی کو بھی اختلاف نہیں ۔ ابن حزم لکھتے ہیں : اتفق جميع اهل السنة وجميع المجيئة و جميع تمام اہل سنت ، فرقہ مرجئہ ، شیعہ اور باستثناء فرقہ الشيعة وجميع الخوارج على وجوب الاماما حاشا نجدات تمام خوارج ، امامت کے واجب ہونے پر الينجدات من الخوارج الملل والنحل ، صفحہ ۷۲ متفق ہیں ۔ اس معاملہ میں اگر اختلاف ہے تو صرف یہ کہ اہل سنت والجماعتہ اس کو "سمعا" یعنی شرعی حکم کے طور پر واجب مانتے ہیں اور بعض فرقے مثلاً زیدیہ اور معتزلہ کا قول یہ ہے کہ یہ از روئے عقل ضروری ہے ۔ مگر جیسا کہ عرض کیا گیا، اپنے اوپر سیاسی امام مقرر کرنے کا مسئلہ ایک ایسے مسلم معاشرہ سے متعلق ہے جو مستقل اجتماعی حیثیت کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنی ایک علیحدہ سیاسی تنظیم برپا کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ متفرق اور منتشر اہل ایمان کے لئے اپنے اوپر سیاسی امام مقرر کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کوئی مطلق حکم نہیں ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جو اپنی الگ اجتماعیت رکھتا ہو، اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی اجتماعیت کو دین کی بنیادوں پر منظم کرے اور اپنا ایک سیاسی امیر مقرر کرکے اس کے ماتحت منظم زندگی گزارے، سیاسی امامت کسی گروہ کے اجتماعی اختیارات کا ظہور ہے۔ پھر جہاں اجتماعی اختیار پایا جائے وہیں تو اس کے ظہور کی توقع کی جاسکتی ہے۔ جہاں سرے سے اجتماعی اختیار ہی موجود نہ ہو، وہاں اس کا ظہور کیسے ہوگا اور اس قسم کے احکام کی "تکلیف"، اس کو کس بنیاد پر دی جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page