مضمونِ دعوت
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
انھیں ان قوموں کی زبانیں سیکھنی ہیں جن کے درمیان وہ دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ زید بن ثابت انصاری رض چھ زبانیں جانتے تھے : عربی، فارسی، روسی، قبطی، حبشی، سریانی۔ ان کو مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنا ہے۔ تا کہ جب وہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی دعوت پیش کریں تو انھیں یہ بھی معلوم ہو کہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں انھیں اسلام کو کس طرح واضح کرنا ہے۔ وہ ان علوم سے آشنا ہوں جو مثبت یا منفی طور پر مذہب سے تعلق رکھتے ہیں تا کہ اپنی گفتگو میں مخاطب کے ذہنی پس منظر کی پوری رعایت کر سکیں۔ یہ ساری چیزیں اپنے آپ کو اس مقام ”قدر“ تک پہنچانے کے لئے ضروری ہیں جس کے بعد آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے سامنے دین کا داعی بن سکے۔ عیسائی مشنریوں نے تربیت مبلغین کے سلسلے میں حیرت انگیز حد تک وسیع انتظامات کر رکھے ہیں۔ مثال کے طور پرھیں یہ معلوم کرنے کا خیال ہوا کہ سوویت روس میں عیسائیت کا کیا حال ہے۔ اس کے لئے انھوں نے امریکہ کے ایک دور دراز علاقہ میں ایک شہر بسایا۔ یہ شہر مکمل طور پر روسی شہر کے نمونہ پر تھا۔ یہاں روسی زبان بولی جاتی تھی۔ کھانا پینا، رہنا سہنا، اٹھنا بیٹھنا سب روسی انداز میں ہوتا تھا۔ اس طرح بہت سے پادریوں کو عملی تربیت کے ذریعہ ایسا بنا دیا گیا کہ نہ اپنی شکل وصورت سے لے کر زبان اور عادات و اطوار تک ہر لحاظ سے بالکل روسی نظر آتے تھے۔ اس کے بعد انھیں ہوائی جہاز اڑانے اور پیراشوٹ سے اترنے کی ماہانہ تربیت دی گئی ۔ ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد انھیں ہوائی جہاز کے ذریعہ نہایت خاموشی سے روسی علاقہ میں اتار دیا گیا۔ وہاں وہ ایک مقررہ مدت تک روسی شہری کی طرح رہے۔ اور ” آہنی پردہ“ کے اندر عیسائیت کی صورت حال کا مطالعہ کرتے رہے۔ اس جان جوکھم کام کے لئے انھیں دوسری چیزوں کے ساتھ روسی جغرافیہ کا بھی ماہر بنایا گیا تھا۔ چنانچہ پروگرام کی تکمیل کے بعد کسی دور دراز علاقہ میں دوبارہ ہوائی جہاز اتارا گیا، جہاں وہ حسب قرارداد موجود تھے اور جہاز میں بیٹھ کر اپنے مرکز میں واپس چلے آئے۔ پیرو کے وسیع جنگلوں میں ایسے قبائل ہیں جو اب بھی وحشی حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔ وہ کسی متمدن انسان کو دیکھتے ہی اسے مار ڈالتے ہیں۔ عیسائیوں نے پروگرام بنایا کہ انھیں ” یسوع مسیح ‘‘ کا پیغام پہنچایا جائے ۔ اس کے لئے انھوں نے ایک ادارہ قائم کیا اور لوگوں کو تربیت دینا شروع کیا۔ یہ لوگ ہوائی جہازوں کے ذریعہ ان جنگلوں کے اوپر پہنچتے اور پیراشوٹ کے ذریعہ نیچے اتر جاتے۔ ابتداءً بہت سے مبلغین کو وحشی قبائل کے لوگوں نے مار ڈالا، تاہم وہ کوشش کرتے رہے۔ انھوں نے ان کی زبان سیکھی جو ابتداً اُن کے لئے بے معنی بک بک جھک جھک کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ انھوں نے ان کی زبان سیکھ کر اس کے قواعد بنائے اور اس میں بائبل کے ترجمے تیار کئے ۔ ہزاروں میل کھیلے ہوئے ان جنگلوں کے اندر انھوں نے ہوائی اڈے، ریڈیو اسٹیشن، اسپتال، کالج، پریس کھول کر ایک نئی دنیا بسا دی اور بالآخر وحشی قبائل کو متمدن انسان بنا ڈالا اور ان کو عیسائیت میں شامل کر لیا۔ یہ ہے تربیت کا وہ معیار جو موجودہ زمانہ میں دیگر مذاہب کے مبلغین نے قائم کیا ہے۔ جب تک ہم اس معیار پر یا اس سے بہتر شکل میں کارکنوں کی تربیت کا انتظام نہ کریں موجودہ زمانہ میں اسلام کی تبلیغی جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکتی اور نہ اس سے کمتر درجہ کی کوششوں سے فی الواقع ہم اللہ کے حضور بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader