مضمونِ دعوت
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
مندرجہ بالا تارییوں کے ساتھ اسلامی مرکز کے تحت عوامی کام کرنا بھی ضروری ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کے کچھ پہلو حسب ذیل ہیں : ۱۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ عامتہ المسلمین کے اندر یہ احساس زندہ کیا جائے کہ وہ عام انسانوں کی طرح ایک انسان نہیں ہیں بلکہ امت محمدی کے ایک فرد ہیں۔ یہ نسبت انھیں بیک وقت دو چیزوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں ایمان و اسلام کے طریقے اختیار کریں۔ دوسرے یہ کہ دہ اس احساس کے تحت زندگی گزاریں کہ وہ دنیا میں حق کے گواہ ہیں : اے ایمان لانے والو، انصاف پر خوب قائم رہنے والے یا ایہا الذین آمنوا كونوا قوامين بالقسط اور اللہ کی گواہی دینے والے بنو۔ نساء - ۱۳۵ شہداء الله ایک شخص اسلام قبول کرتے ہی اس بات کا ذمہ دار ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں "قسط" کے اس راستہ پر چلے جو اللہ تعالی نے انسانوں کے لئے مقرر کیا ہے۔ مگر جب اس کا سابقہ کسی ایسے شخص سے پڑے جس نے اسلام کو اختیار نہیں کیا ہے تو اس ذمہ داری کے ساتھ ایک اور نزاکت شامل ہو جاتی ہے۔ اب وہ مسلم ہونے کے ساتھ شاہد بھی بن جاتا ہے۔ اس کی یہ مزید ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ اس احساس کے تحت معاملہ کرے کہ وہ دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ وہ اس لئے ہے کہ اس کی زبان و عمل سے لوگ یہ آگہی حاصل کریں کہ خدا کی مرضی کیا ہے اور وہ روش کون سی ہے جس پر چل کر انسان اپنے رب کے یہاں سرخرو ہوتا ہے۔ سڑک کے کنارے لگایا ہوا رہنما کھمبا SIGN POST نہایت صحت کے ساتھ ان سمتوں کی طرف رہنمائی کر رہا ہوتا ہے جس کے لئے وہ نصب کیا گیا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو سڑک کے محکہ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ اسی طرح مسلمان دنیا میں حق کی نمائندگی کے مقام پر کھڑے کئے گئے ہیں۔ عام حالات میں ایک مسلمان کی کوتاہی قابل معافی بھی ہو سکتی ہے ، مگر جب وہ ایک غیر مسلم کے بالمقابل ہو تو اس کے لئے لازم یہ ہے کہ شدت احتیاط کے تمام پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے معاملہ کرے تاکہ غیر مسلم کے اوپر خدا کے دین کی غلط نمائندگی نہ ہو سکے۔ ایک مسلمان کے لئے عام زندگی میں لہم من ترجم - ۳۲) کی معافی ہے۔ مگر جب سابقہ غیر مسلمین سے ہو تو حق سے انحراف شہادت زور (فرقان - ۷۲) بن جاتا ہے اور شہادت زور اللہ کی نظر میں بدترین جرم ہے۔ ۲۔ عرب میں یہ طریقہ تھا کہ سال میں مختلف مقامات پر قومی میلے لگتے جہاں مختلف قبائل کے لوگ جمع ہوتے اور تجارت اور تفریح کے مختلف پروگرام ہوتے ، جیسا کہ آج بھی اس قسم کے میلوں میں دکھائی دیتا ہے۔ سیرت کی کتابوں میں عکاظ ، ذو المجاز، منی، مجنہ وغیرہ میلوں کا ذکر آتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے اپنی تبلیغی مہم کے لئے جو طریقے اختیار فرمائے ، ان میں یہ بھی تھا کہ آپ ان میلوں میں جاتے اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاتے ۔ آپ کے ایک ساتھی اپنا ابتدائی زمانہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پہلی بار آپ کو ذو المجاز کے بازار میں دیکھا۔ آپ سرخ چادر پہنے ہوئے بازار سے گزر رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader