Urdu book · اسلام

مضمونِ دعوت

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں ۔ ذکر، عبادت، دعا تلاوت وغیرہ سے اس مقام پر نورانیت اور تسخیر باطن کی فضا پیدا ہوگی اور خود بولنے والوں کے کلام میں وہ خصوصیت پیدا ہوگی جس کو قولا بلیغا فی انفسہم (نساء-۶۲) کہا گیا ہے۔ مقرر اس موقع پر جو تقریر کرے، اس کا پہلے سے ریہرسل کرا لیا جائے۔ ۴۔ موجودہ زمانہ میں جس طرح اجتماعات کے لئے ہال اور پارک ہوتے ہیں ، قدیم عرب میں اسی طرح صفا کی پہاڑی تھی۔ یہ حقیقتاً ایک ٹیلہ تھا جس پر کھڑے ہو کر آدمی آواز لگاتا اور جب لوگ جمع ہو جاتے تو ان کے سامنے اپنی بات رکھتا : اخرج احمد عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ جب اللہ نے آیت لما انزل الله وانذر عشيرتك الاقربين، و انذر عشيرتك الاقربين اتاری تو نبی صلی اللہ اتی النبي صلى الله عليه وسلم الصفا فصعد عليه علیہ وسلم صفا کی پہاڑی پر چڑھے اور آواز دی : اے ثم نادی " یا صباحاه"، فاجتمع الناس اليه لوگ صبح لوٹ ٹوٹ پڑنے کی خبر لو۔ یہ آواز سنتے ہی لوگ بین رجل مجیئاً و بين رجل يبعث رسوله آپ کے پاس جمع ہوگئے۔ کچھ لوگ خود آئے، کچھ نے فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا بني اپنے بدلے کسی کو بھیج دیا۔ آپ نے فرمایا، اے لوگو بتاؤ عبد المطلب ! يا بني فهر ! يا بني كعب ! اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک لشکر ان أتيتم لو اخبرتكم ان خيلا بسفح هذا الجبل تريد تمہیں لوٹنے کے لئے جمع ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے۔ ان تغیر عليكم صدقتمونی قالوا نعم ۔ قال فانی لوگوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا میں تم کو آخرت کے نذیر لكم بين يدى عذاب شديد ہولناک عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمھارے سامنے ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے مقامات " صفا" کو استعمال کر کے ہمیں خلق خدا کے سامنے حق کا پیغام پہنچانا چاہیئے۔ اس کی ایک شکل یہ ہے کہ ایسے اجتماعات منعقد کئے جائیں جن میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے مذہب کا تعارف کرائیں اور اس کے اصول بیان کریں۔ آخر میں اسلام کا نمائندہ کھڑا ہو اور نہایت سنجیدہ اور علمی انداز میں بتائے کہ اسلام کیا ہے اور وہ انسان سے کیا تقاضا کرتا ہے۔ اس طریقہ کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کا خطاب چوں کہ غیر شخصی ہوتا ہے، اس لئے اس میں آدمی اسلام کے براہ راست پیغام کو پیش کر سکتا ہے، جب کہ شخصی گفتگو میں عام طور پر داعی کو براہ راست اسلام کا پیغام دینے میں کسی قدر تکلف محسوس ہوتا ہے۔ جن ملکوں میں مسلمان اجتماعی وسائل پر قابض ہیں، وہاں اسلامی ریڈیو کی شکل میں اس طریقہ کو اور زیادہ بڑے پیمانہ پر زیر عمل لایا جا سکتا ہے ، جیسا کہ عیسائی مشہریاں افریقہ میں "صوت الانجیل ،، کے نام سے اپنا ریڈیو اسٹیشن قائم کر کے انجام دے رہی ہیں۔ ۵۔ اسلامی مرکز میں ایک اسلامی میوزیم بھی قائم کیا جانا چاہئے، جہاں اسلام کے تاریخی آثار جمع کئے جائیں۔ موجودہ زمانہ کا ذوق یہ ہے کہ ماضی کے واقعات کو خالص تاریخی انداز سے جانچا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت مسیح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page