Urdu book · اسلام

مضمونِ دعوت

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ان سے پہلے کے انبیائے کا ذکر معاصر تاریخی ریکارڈ میں نہیں ملتا۔ اس لئے ان انبیاء کو افسانوی شخصیتیں قرار دے دیا گیا ہے نہ کہ تاریخی شخصیتیں ۔ یہ صرف پیغمبرِ اسلام کی خصوصیت ہے کہ آپ کی زندگی وقت کے پورے تاریخی ریکارڈ پر ثبت ہو گئی ہے۔ اس میوزیم میں آپ کے معاصر مورخوں کی وہ کتا ہیں جن کی جائیں جو آرامی اور دیگر زبانوں میں لکھی گئیں اور جن میں اسمعیلی پیغمبر“ کا ذکر صراحتاً موجود ہے ۔ اسی طرح آپ کے وہ خطوط محفوظ ہیں جو آپ نے اپنے زمانہ کے بادشاہوں کے نام روانہ کئے ۔ ان خطوط کے عکس حاصل کر کے وہاں آویزاں کئے جائیں۔ قرآن کا دہ اولین نسخہ تاشقند کے کتب خانہ میں محفوظ ہے جو حضرت عثمان کے زیرِ لادت تھا۔ اس کا فوٹو و صوص کر کے رکھا جائے ۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی جس جغرافیہ میں رہے وہ بدستور آج بھی موجود ہے ۔ حتی کہ آپ کے بال اور کپڑے اور استعمالی اشیاء آج تک موجود ہیں ۔ اس طرح کے بے شمار تاریخی آثار ہیں ۔ جو اصلی حالت میں یا ان کے فوٹو حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ اس قسم کا میوزیم اگر معیاری شکل میں قائم ہو جائے تو وہ اسلام کی تاریخی شہادت کا ایک مرکز ہو گا جس کو دیکھنے کے لئے دور دور سے لوگ آئیں گے ۔ مذہبی تاریخ کے بارے میں یہ دستاویزات ان فوادر سے کہیں زیادہ قیمتی حیثیت کے حامل ہوں گے جو روم میں مجمع ہیں اور جن کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر کے سیاح آتے رہتے ہیں ۔ ۷۔ اگر ایک ایسا اسلامی مرکز قائم ہو جائے جہاں مندرجہ بالا شعبے ہوں اور جہان ذکر و نماز سے لے کر اسلامی لائبریری اور اسلامی میوزیم تک ہر قسم کی اسلامی سرگرمیاں اکھٹا نظر آتی ہوں تو پھر اسی سے وہ اہم فائدہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جس کا ذکر قرآن میں ان لفظوں میں آیا ہے: وان احد من المشركين استجارك فاجره حتی اور اگر مشرکین میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اس کو يسمع كلام الله ثم ابلقه مامنه ذلك بانهم پناہ دے یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے ۔ پھر اس کو اس قوم لا يعلمون اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے کہ " مام شرک " کے مقابلہ میں ایک " مام اسلام " ہو جہاں لوگ آکر اسلام کو چلتا پھرتا دیکھیں اور خدا کے پیغام کو سنیں ۔ اسلامی مرکز اپنے تمام شعبوں کے ساتھ اس خدمت کو انجام دے گا ۔ حتی کہ اگر وسائل ہوں تو اس کے پاس اپنی سواریاں ہونی چاہئیں جن پر لوگوں کو بٹھا کر مرکز اسلام میں لایا جائے اور یہاں کے پروگرام میں شریک کرنے کے بعد انہیں ان کے " مام " میں واپس پہنچا دیا جائے ۔ ۸۔ قرنِ اول میں عرب کی حالت فطری نے اسلام کے لئے زرخیز زمین فراہم کی تھی ، موجودہ زمانہ میں اس کا بدل سائنٹفک معاشرہ ہے ۔ امریکہ کا مشہور واٹر گیٹ اسکینڈل (۱۹۷۲ء ۱۹) اور اس کے بعد دنیا کے سب سے طاقت در حکمران (رچرڈ نکسن) کا صدارت کی کرسی پر رہتے ہوئے سخت ترین محاسبہ اور بالآخر اگست ۱۹۷۴ء میں استعفاء، ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال یا اسلامی معاشرہ میں مل سکتی ہے یا سائن ٹفک معاشرہ میں ۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنٹفک معاشرہ اسی صلاحیت کا شعوری درجہ ہے جس کو ہم غیر شعوری معنوں میں فطرت کہتے ہیں۔ جن ملکوں میں سائنسی تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں یہ معاشرہ بن چکا ہے وہاں دینِ حق کی دعوت ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page